کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت افضل باقی اور ان کے بیٹے کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ حکومت اور اداروں کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پرامن علاقوں کے حالات خراب،لوگ غائب وقتل ہورہے ہیں حکمران سیکورٹی ادارے مذمت سے آگے نہیں جاتے جولمحہ فکریہ ہے۔بے گناہوں کاقتل اللہ کے قہروعذاب کودعوت دینے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مزید کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے بارڈر بندش کے ذریعے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے۔بارڈر پر پابندی سے ہزاروں خاندان فاقہ کشی کا شکار اور معاشی بدحالی میں مبتلا ہے
عوام کے مسائل کے حل کیلئے آج اسمبلی اجلاس میں سخت احتجاج کرونگا۔حکومت فوری طور پر بارڈر کھولنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں۔
انہوں نے کہا کہ زیارت سمیت دیگرپرامن علاقوں سے لاتعلق بے گناہ افرادکااغوا اورپھران کی لاشوں کاملناباعث تشویش ہے
ایسے سانحات علاقے کے امن کو تباہ کرنے کی گھنانی سازش ہیں اس سازش کوبے نقاب کرنے کی ضرورت ہے جبکہ حکومت اور ادارے عوام کی جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مطالبہ کیا کہ اس المناک واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے،
اعلی سطحی کمیٹی بنا کر تحقیقات کی جائیں اور اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔انہوں نے مرحومین کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اس دکھ کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔