کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو1973کے آئین کے آرٹیکل172، صوبائی مختاری اور 18ویں آئینی ترمیم کے روح کے منافی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مائینز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ 75سالوں سے معدنیات سے متعلق جھوٹے بڑے منصوبوں پر خدمات سر انجام دے رہا ہے
اب ایسی کی وجہ ہوئی کہ مائینز ایکٹ کو تبدیل کر کے وسائل کو وفاق کے سپرد کرنے کی پالیسی اپنائی گئی حالیہ مائینز اینڈ منرلز ایکٹ میں ترمیم فارم47کے حکمرانوں کے استحصال کا تسلسل ہیں موجودہ حکومت جسے عوامی حمایت حاصل نہیں ایسے حالات میں ایکٹ کا مقصد استحصالی منصوبوں کو دوام دینا ہے جس نے بہت سے شکوک و شبہات جنم دیا ہے بی این پی قومی جمہوری جماعت ہونے کے ناطے ایکٹ کو مکمل طور پر منسوخ کیا جائے
کیونکہ بلوچستان کے حقیقی جماعتوں نے عدالت عالیہ میں پٹیشنز فائل کی ہیں اور بلوچستان کی پارلیمان میں اندر اور باہر کی سیاسی جماعتوں نے اس ایکٹ کو مکمل مسترد کر دیا ہے ایسے غیر قانونی ، غیر آئینی فیصلوں کو کسی بھی صورت نہیں کیا جائے گا گزشتہ دنوں منعقدہ اجلاس میں تمام جماعتوں نے یک زبان ہو کر ترمیم کو مسترد کر کے فارم 47کے حکمرانوں کو واضح پیغام دیا کہ بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار کی اجازت نہیں دی جائے گی ماورائے آئین ایکٹ و پالیسیوں کو برداشت نہیں کیا جائیگا
بلوچستان میں باہمی اتفاق رائے اور تمام اسٹیک ہولڈز کی برہمی رضا مندی اور حقوق پر متفقہ طور پر قانون سازی کی جائے نہ کہ بلوچستان کے وسائل کو وفاق کے حوالے کرنے کیلئے قراردادیں لائی جائیں بی این پی پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بلوچ و بلوچستانی عوام کی حقیقی معنوں میں ترجمانی کر رہی ہے بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ وسائل پر اختیار یہاں کے عوام کا ہونا چاہئے نہ کہ وسائل پر کنٹرول وفاق کا ہو-