کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبرفہد بلوچ نے کہا ہے کہ لسبیلہ یونیورسٹی آف واٹر اینڈ میرین سائنز اوتھل کے طلباء پر امن طور پر انتظامیہ کی علم دشمن پالیسیوں کے خلاف دھرنا دے رہے تھے
یونیورسٹی اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے کریک ڈائون اور سینکڑوں طلباء کو لاٹھی چارج ، فائرنگ اور تشدد کے ذریعے غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے ۔
جس کی ہم مذمت کرتے ہیں طلباء کے مسائل کے حل کیلئے احتجاج کا اعلان کرتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں علی بلوچ، ولید بلوچ، مجید بلوچ سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار اور تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں جس کی وجہ سے طلباء کا مستقبل دائو پر لگ چکا ہے آئے روز مسائل جنم لے رہے ہیں ۔ بد عنوانی نا اہلی، اقربا پروری اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیمل نے صورتحال کو مزید گھمبیر کردیا ہے۔ تعلیمی بجٹ میں کٹوتی ، بنیادی سہولیات کی کمی، اساتذہ کی کمی اور انفراسٹرکچر کی خستہ سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی آف واٹر اینڈ میرین سائنز اوتھل میں 7 طالب علموں کو نام نہاد ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے معطل کیا گیا ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے بلوچی زبان کے نامور ادیب اور شاعر مبارک قاضی کی یاد میں ایک علمی پروگرام کا انعقاد کیا تھا اس علم دشمن اقدام کے خلاف طلباء دھرنے پر بیٹھے ہوئے تھے
مگر ان کی بات سننے اور جائز مطالبات تسلیم کرنے کی بجائے انتظامیہ نے 7 طلباء میں سے ایک کو ایک سال جبکہ 2 کو دو سال کے لئے رسٹیکیٹ کردیا جو نہ صرف تعلیم دشمن عمل ہے بلکہ طلباء کے مستقبل کو دائو پر لگانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ طلباء کو یونیورسٹی کے ہاسٹلز سے جبری طور پر لاپتہ کیا جاتا ہے تو کبھی انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کرکے ان کی پروفائلنگ کی جاتی ہے ۔
ہم ان حالات کا مقابلہ کریں گے ہمارے ساتھی شدید زخمی ہیں اگر ان کو کچھ ہوا تو تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار میں طلباء اپنے جائز تعلیمی حقوق کے لئے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں ان کے مطالبات میں بنیادی تعلیمی سہولیات اسکالر شپس، اسٹڈی ٹورز، بہتر مینٹیننس اور دیگر ضروریات شامل ہیں۔
بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ میں کئی شعبوں کو ختم کیا جارہا ہے جس میں بلوچی، براہوئی اور پشتو زبان کے شعبے شامل ہیں یہ اقدام بسنے والی بلوچ و پشتون اقوام کے ساتھ زیادتی اور قابل مذمت ہے۔ ہم جب و زیادتیوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہیں۔