|

وقتِ اشاعت :   September 24 – 2025

کوئٹہ: سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی معطلی کو سیاسی کارکنوں کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن اراکین 26 ستمبر کو ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلا س میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کا ازسر نو جائزہ لینے اور خدشات دور کئے جانے کی قرار دادپیش کریں گے

بلوچستان کی آئندہ نسلوں کی بقاء کیلئے اس سیاسی عمل کا حصہ بنے ہیں، ایکٹ میں ہونیوالی ترامیم میں مادروطن کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔یہ بات انہوںنے گزشتہ روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہاکہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 12مارچ2025ء کو صوبائی اسمبلی سے پاس ہوا اور ایکٹ سامنے آنے پرانہوںنے ان کی کور کمیٹی کے سینئر ساتھیوں اورسینئر لیگل کونسل نے اس کا باریکی سے جائزہ لیا

اور اس بات کا تعین کیا کہ مذکورہ ایکٹ بلوچستان کے مفادات کے برعکس ہے کیونکہ وہ اسمبلی میں نہیں تھے نہ اسمبلی کی لالچ میں سیاست کرتے ہیں اس لیے آئین سے متصادم اس قانون کیخلاف عدالت میں گئے اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دی کہ وہ عدالت میں اس ایکٹ کو چیلنج کرکے پارلیمانی جمہوری انداز میں بلوچستان کے حقوق کی جنگ لڑیں۔

انہوںنے کہا کہ گزشتہ روز قائد حزب اختلاف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی معطلی اور ایکٹ کا از سر نو جائزہ لینے کیلئے وزیراعلیٰ سے مذاکرات کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی تھی گزشتہ روز حکومت نے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو معطل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جبکہ اپوزیشن اراکین 26 ستمبر کو ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلا س میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کا ازسر نو جائزہ لینے اور خدشات دور کئے جانے کی قرار دادپیش کریں گے ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے نوجوانوں کی جنگ لڑکر ان کے آئندہ کو پرامن بنانے کیلئے یہ راستہ چنا ہے تاکہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ذریعے اس قانون میںترمیم کرکے آئین سے متصادم اوربدنیتی پر مبنی نکات کوحذف کیا جائے، انہوںنے کہاکہ قرار داد کی منظوری کے بعد ایک اصلاحاتی کمیٹی تشکیل دی جائیگی

پھر ہم اپنی رائے دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ میں ، اپوزیشن اور حکومت وقت تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں ہم اپنے صوبے اور آئندہ نسلوں کی بقاء کیلئے اس سیاسی عمل کا حصہ بنے ہیں تاکہ ایکٹ میں ہونے والی ترامیم میں آئندہ نسلوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔