کوئٹہ: پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر صوبائی وزیر ایریگیشن محمد صادق عمرانی نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے حوالے سے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ہم پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے مشاورت کرکے لائحہ عمل طے کرکے اقدامات اٹھائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنے دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی منظوری اور اس کے بعد اپوزیشن اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور دیگر معاملات کے حوالے سے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ہم نے ہمیشہ پاکستان پیپلزپارٹی کے منشور اور مرکزی قیادت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی پالیسیوں اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا ہے
گزشتہ دنوں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے حوالے سے کئے گئے اقدامات اور فیصلوں سے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا اس حوالے سے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کرکے ان کی مشاورت اور باہمی رضا مندی سے جو وہ فیصلہ کریں گے اس کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے ہم نے بلوچستان کے حقوق کے حصول اور عوام کے مسائل کے حل کو یقین بنانے کے لئے اقدامات اٹھانے ہیں
کیونکہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ پسے ہوئے غریب طبقات کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں روزگار کی فراہمی کے علاوہ زرعی شعبے کو تقویت دینے کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے اور کرتی رہے گی۔
دریں اثناء بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی سے بدھ کے روز ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے ملاقات کی، اس موقع پر صوبائی وزیر آبپاشی سے گرین بلیٹ میں نہری پانی کے حوالے سے لوگوں کو درپیش مسائل اور خدشات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی غریب کسانوں کی آواز بن کر ہمیشہ پیش پیش رہی ہے اور ہم نے معاشی طور پر کسانوں، زمینداروں اور شعبہء زراعت کو فروغ دینے کیلئے جدو جہد کی ہے،
انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنا انسان کے بس کی بات نہیں لیکن نقصانات کو کم کرنے کے لیے بطور انسان اور حکومت ہم منصوبہ بندی اور بہترین حکمت عملی کے تحت تباہ کاریوں سے انسانوں اور گھروں کو بچانے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں، میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے دوران دریا سندھ میں تین سے چار لاکھ کیوسک پانی پہلے سے موجود تھا
جبکہ باہر سے آنے والا پانی جو تقریبا چھ سے سات لاکھ کیوسک متوقع تھا لہذا اس خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمارے انجینیئروں اور سندھ کے انجینیئروں نے باہمی مشاورت سے طے کیا کہ دریا سندھ میں موجود پانی کو نکال کر سمندر میں بہا دیا جائے تاکہ پیچھے سے جو پانی آ جائے تو ہم اس پانی کو باسانی نکال سکیں تاکہ نقصان سے لوگوں کو بچایا جا سکے انہوں نے کہا کہ کشمور سکھر، حیدرآباد اور کوٹلی سے دریا کے جو دروازے تھے
اوپر کر دیے گئے تاکہ پانی نکل سکے، صوبائی وزیر نے کہا کہ نہری نظام کے تحت پانی دینے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ دریا کے دروازوں کو نیچے کیا جائے تاکہ پانی کی سطح کو اوپر لایا جا سکے اگر دروازے اوپر نہیں کیے جائیں اور جہاں 5 لاکھ کیوسک پہلے سے موجود ہو اور 5 لاکھ کیوسک پانی مزید آجاتا تو دریا ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نہری نظام سمیت نصیر آباد، صحبت پور و دیگر گرد ونواح کے علاقے سیلابی پانی سے تباہ و برباد ہو جاتے، انہوں نے کہا کہ قدرتی طور پر سیلابی صورتحال کے پیش نظر دس سے بارہ دنوں تک بحرانی کیفیت رہی اور اس کی بہتری کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں اور گزشتہ تین دنوں سے نہری پانی چھوڑ دی گئی ہے
لیکن تمام حالات واقعات سے قطع نظر نہری نظام میں پانی کی چوری بھی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی تدارک کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ میں میڈیا کے نمائندوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آکر حالت کا خود جائزہ لیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسمبلی اجلاس میں ایک رکن اسمبلی نے عدالتی احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں عدالتی آرڈر موجود ہے
انہوں نے کہا کہ ہم عدالتی احکامات پر ہر صورت عمل کریں گے لیکن پھر بھی جو لوگ چور ہیں اور اسمبلی میں بیٹھ کر غیر قانونی واٹر کورسز اور پانی چوروں کی سرپرستی کرتے ہیں ان کی مکروہ عمل کی وجہ سے بلوچستان اور خصوصاََ نصیر آباد ڈویژن تباہی کی دہانے پہنچا، صوبائی وزیر نے کہا کہ 50 ہزار ایکڑ زمین میں پٹ فیٹر پل سے میر حسن تک غیر قانونی طور پر چاول کاشت کیے گئے ہیں
اور امسال پٹ فیڈر میں 6 ہزار 800 کیوسک پانی چلایا گیا جو گزشتہ 15 سالوں میں کسی نے نہیں کیا اور لوگوں نے 30 فیصد کی بجائے 100 فیصد چاول کاشت کیے ان زمینوں کی آبادی پانی کی بدولت ہی ممکن ہوئی، ایک سوال کا جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ غیر قانونی اقدامات کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس ضمن میں محکمہ کے متعلقہ آفسران اور دیگر اہلکاروں سے پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی میں غفلت کوتاہی برتنے پر باز پرس ہوگی، انہوں نے کہا کہ کمشنر نصیر آباد کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی جو پانی کی چوری کے روک تھام و دیگر غیر قانونی اقدامات پر کاروائی کر سکیں، انہوں نے کہا کہ پانی کی چوری میں ملوث مافیا ہڑتال اور پریس کانفرنس کرکے مسائل پیدا کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اس میں انہیں کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوگی