کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں نوکنڈی تا ماشکیل روڈ کی تعمیر کو جلد مکمل کرنے، گوادر کو میرانی ڈیم سے پانی کی فراہمی کی قرارداد یں منظور کرلی گئیں جبکہ بلوچستان لینڈر ریونیو ایکٹ 1967کا جائزہ لینے اور بلوچستان لینڈ ریکارڈ اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام کی قرارداد کو مطلوبہ اکثریت نہ ہونے پر مسترد کردیا گیا ۔
جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے پسنی ہاربر کو بحال کرنے سے متعلق توجہ دلاو نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر برائے محکمہ ماہی گیری کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کرو ائیں کے کہ فش ہار بر پسنی گذشتہ کئی سالوں سے مٹی تلے دب چکا ہے۔ متعدد بار اس پر کروڑوں روپے کے اخراجات کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جاپانی گرانٹ کے ذریعے بھی بحالی کی کوشش کی گئی لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔ چونکہ فیش ہاربر پسنی ایک معاشی حب ہے اور وہاں ہزاروں لوگ کام کرتے ہیں
لیکن آج کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ماہی گیر شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ لہذا حکومت کی جانب سے فش ہاربر پسنی کی بحالی کی بابت کیا اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ تفصیل فراہم کی جائے۔ توجہ دلاو نوٹس پارلیمانی سیکرٹری فشریز کی یقین دہانی پر نمٹا دیا گیا۔اجلاس میں نوکنڈی سے ماشکیل تک روڈ کی تعمیر مکمل کرنے سے متعلق جمعیت علماء اسلام کے رکن میر زابد علی ریکی نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر گاہ کہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس میں آمد ورفت کے لئے پختہ شاہراہیں نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کو آمد و رفت کی بابت سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کو ترقی کے حوالے سے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ اور اسکے علاوہ جو ترقیاتی منصوبے بلوچستان میں شروع کیے گئے ہیں وہ تمام منصو بے انتہائی سست روی کا شکار ہیں۔ جن میں نوکنڈی تا ماشکیل روڈ۔ جو کہ 102 کلومیٹر پر مشتمل ہے جسے وفاقی حکومت نے سال 2020 میں شروع کیا اور پانچ سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود مذکورہ روڈ پر کام کی رفتار سست روی کا شکار ہے اور تا حال پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا ہے۔
لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ نوکنڈی تا ماشکیل 102 کلو میٹر روڈ کی تعمیر کو جلد مکمل کرنے کو یقینی بنائے تاکہ بلوچستان کے عوام کو آمد و رفت کی بابت در پیش مشکلات کا ازالہ ممکن ہو سکے بلوچستان اسمبلی نے نوکنڈی سے ماشکیل تک روڈ کی تعمیر مکمل کرنے سے متعلق قرارداد منظور کرلی۔ اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کی رکن شاہدہ روف نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ریونیو ایکٹ 1967 جو کہ بہت پرانا ہو چکا ہے اور موجودہ دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا ہے۔ یہ قانون نو آبادیاتی دور کے پرانے نظام پر مبنی ہے جہاں پٹوار اور ریونیو آفسران کے لامحدود اختیارات عوامی مشکلات، بدامنی اور زمینوں کے تنازعات کا باعث بنتے ہیں۔ جبکہ اس کیبر عکس ملک کے دیگر صوبوں نے اپنے تمام لینڈ ریکارڈ کو Digitallize کر کے عوام کو شفافیات، آسانی اور انصاف فراہم کر رہے ہیں۔لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ بلوچستان لینڈ ریونیو ایکٹ 1967ء کا جامع جائزہ لیا جائے اور اس میں دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات متعارف کروائی جائیں۔ اور ” بلوچستان لینڈ ریکارڈ اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی” کے نام سے ایک نیا قانون بنایا جائے۔ تا کہ ایک مستقل، با اختیار، اور پیشہ ورانہ اتھارٹی قائم کی جاسکے۔
جس میں عوام کو آن لائن رسائی فراہم ہو اور فرد انتقالات (Mutation) با آسانی دستیاب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کا جائزہ لیکر ان میں جد ت لانے کی ضرورت ہے ایک اصلاحاتی کمیٹی بنا کر اس قانون پر سفارشارت مرتب کی جائیں جائیداد کی منتقلی اور فیصلے نسلوں میں ہوتے ہیں ڈیجیٹل نظام سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا ۔ صوبائی وزیر ریونیو میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ صوبے میں 4اضلاع کوئٹہ، جعفر آباد، گوادر، پشین کا ریکارڈ ڈیجٹلائز کردیا ہے اب فیز IIمیں مزید 7اضلاع سبی، خاران، خضدار، لورالائی ، مستونگ ، صحبت پور، لسبیلہ کا ریکارڈ ڈیجٹیل کیا جارہا ہے منصوبے پر اب تک 5ارب روپے کی لاگت آچکی ہے ریونیو قانون پہلے بھی منظور ہوچکا ہے اس پر کمیٹی میں اگر محرک شامل ہونا چاہیں تو ہوسکتی ہیں ۔
نیشنل پارٹی کے رکن میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ پنجگور میں 2016سے سیٹلمنٹ نہیں ہورہی جس سے قبضہ گیر ی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی قانون سازی ہونی چاہیے اب بھی روایتی طریقوں سے کام ہورہا ہے ۔ صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ جس ضلع میں سیٹلمنٹ نہیں ہورہی ہے وہاں کے لوگ درخواست دیں ہم سیلٹمنٹ کریں گے جب قانون موجود ہے تو قرارداد کا جواز نہیں بنتا محرک اسے واپس لے لیں ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں اب بھی 85فیصد علاقہ ان سیٹلڈ ہے یہ ایک طویل اور محنت طلب کام ہے ۔ بعدازاں اسپیکر نے قرارداد پر ایوان میں رائے شماری کروائی جس پر قرارداد کو منظور ہونے کے لیے مطلوبہ تعداد نہ مل سکی اور ایوان نے قرارداد کو مسترد کردیا ۔
اجلاس میں رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر گاہ کہ گوادر جو کہ ایک انٹرنیشنل شہر کا شکل اختیار کر چکا ہے۔ گوادر پورٹ سے شہر کی اہمیت مسلمہ ہے اس لئے گوادر کوسی پیک کے ماتھے کا جھومر کہا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ گوادر میں گذشتہ کئی سالوں سے اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود گوادر کے باسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں واضح رہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے 18 ارب روپے کے قریب پانی پر اخراجات کے باوجود پانی کی فراہمی کا کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا گیا ہے۔ لہذ امید ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ ضلع گوادر کے عوام کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کیا جائے۔ تاکہ گوادر کے عوام پانی جیسی نعمت کے لئے مزید پریشان نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ گوادر کے 4ڈیم خشک ہوچکے ہیں 10سالوں میں 18ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوا ۔ صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے کہا کہ گوادر میں پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کام کیا جارہا ہے شہر کو 30لاکھ گیلن پانی یومیہ ضرورت ہے میرانی ڈیم اس مسئلے کا ایک حل ہے
مگر اس کی مدت بھی مکمل ہونے والی ہے وفاقی حکومت نے 11ارب روپے سے لائنیں بچھا ئی ہیں جنہیں آپس میں منسلک کیا گیا ہے پوری دنیا میں آر او پلانٹ کے ذریعے ساحلی علاقوں میں پانی فراہم کیا جارہا ہے بروقت اقداما ت ہوتے تو آج ٹینکر مافیا سے جان چھوٹ جاتی ۔ اس معاملے پر سوچ بچار کر کے فیصلہ کریں گے ۔ وزیراعلیٰ کی مشیر مینہ مجید نے کہا کہ گوادر اور کیچ کے عوام کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کے لیے درمیانہ راستہ نکالنا ہوگا تاکہ کسی بھی ضلع کی حق تلفی نہ ہو ۔بعدازاں ایوان نے قرارداد کو منظور کرلیا ۔