|

وقتِ اشاعت :   September 26 – 2025

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ بی ایس او پجار کے سابق مرکزی چیئرمین زبیر بلوچ کا قتل ریاستی جارحیت کا شاخسانہ ہے۔

ترجمان کے مطابق ریاست پرامن سیاسی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے ماورائے آئین ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، جس کے تحت بلوچ سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل معمول بن چکے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ شہید زبیر بلوچ ایک پرامن اور جمہوری سیاسی کارکن تھے

جنہوں نے بلوچ نوجوانوں کی سیاسی و شعوری آبیاری، طلبا کے حقوق اور لاپتہ افراد کی بازیابی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کا قتل بلوچستان میں بڑھتی ہوئی ریاستی وحشت اور ملک کی جمہوری روایتوں پر سیاہ دبہ ہے۔ بی ایس او نے مطالبہ کیا کہ چیئرمین زبیر بلوچ کے قتل کی صاف و شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو کڑی سزا دی جائے۔

بیان میں کہا گیا کہ شہید زبیر بلوچ کی قربانی اور جدوجہد کو بلوچ سیاسی تاریخ میں مزاحمت کے ایک ناقابل فراموش باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔