کوئٹہ؛ بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان نے کہا ہے کہ حکومت اور اسپیکر نے جانبداری کا مظاہرہ کر کے لینڈر یکارڈ کو ڈیجٹلائز کرنے کی مثبت قرارداد کو بلڈوز کیا ،
لوگ صوبے کو جدید تقاضہ سے آراستہ کرنے سے لوگ خوفزدہ اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ انکی دکانداری بند ہوجائیگی ۔یہ بات نیشنل پارٹی کے رکن میر رحمت صالح بلوچ، خیر جان بلوچ، جمعیت علماء اسلام کے ارکان میر زابد علی ریکی، شاہدہ رئوف نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔
نیشنل پارٹی کے رکن میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ اپوزیشن کی قرارداد میں سفارش تھی کہ لینڈر ریکارڈ کو ڈیجٹلائز کیا جائے تاکہ بھتہ خوری اور کرپشن کا خاتمہ کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ حکومتی نمائندوں نے عوام دشمنی کا ثبوت دیا جو افسوسناک ہے صوبے کو جدید تقاضہ سے آراستہ کرنے سے لوگ خوفزدہ اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ انکی دکانداری بند ہوجائیگی ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور اسپیکر نے جانبداری کر کے مثبت قرارداد کو بلڈوز کیا گیا حکومت عوام کے ساتھ سنجیدہ نہیں بلکہ لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قرارداد کی مخالفت سمجھ سے بالا تر ہے اپوزیشن کے بعض ارکان چھٹی پر تھے جسکی وجہ سے نمبر پورے نہیں تھے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم اخلاق اور تمیز کے دائرے میں اپنے تحفظات رکھتے ہیں ہم نہیں چاہتے کہ اسمبلی میں دوبارہ گملے چلیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے ساتھ صوبے کے معاملات پر مل کر بیٹھتے ہیں اور آئندہ بھی بیٹھیں گے۔
جمعیت علماء اسلام کے رکن میر زابد علی ریکی نے کہا کہ صوبے میں جب عوام کے کام نہیں ہونگے ہم حکومت کی مخالفت کریں گے ۔ جہاں حکومت اچھا کام کریگی اس کی تعریف بھی کریں گے ۔ جمعیت علماء اسلام کی رکن شاہدہ رئوف نے کہا کہ اسپیکر اور حکومت کا رویہ نامناسب تک اسپیکر جانبدار ہو کر اسمبلی کو چلا رہے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ ریونیو ایکٹ پر دیگر صوبے اور وفاق کام کر چکے ہیں ہم نے جب حکومت کی توجہ دلائی تو اس قرارداد کو سائیڈ لائن کردیا گیا ،صوبائی وزیر نے خود کہا کہ صوبے میں 85فیصد علاقہ ان سیٹل ہے لیکن اس کے باوجود ان کا رویہ غیر سنجیدہ تھا ۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو بار ہا سننے کو مل رہا ہے کہ وہ اپنا کردارادا نہیں کر رہی ہمیں ادراک ہے کہ صوبہ حالت جنگ میں ہے ہم نے کوشش کی کہ حکومت کو اسپیس دیکر بحرانوں سے ملکر نمٹیں ہم حکومت کو وقت دے رہے ہیں کیونکہ ہمیں ادراک ہے کہ صوبے کے حالات نارمل نہیں ہیں ۔