کوئٹہ ؛ پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی نے کہا ہے کہ جب سے وزارت کی ذمہ داری سنبھالی ہے پہلی بار زمینداروں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے پٹ فیڈر کینال میں 6800 کیوسک پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے
ہماری کوشش ہے کہ زمینداروں کو بروقت پورا پانی مہیا کیا جائے تاکہ اکتوبر ، نومبر، دسمبر ، 10 جنوری تک گندم کی کاشت کرسکے اور پانی چوری کی روک تھام کے لئے قانونی کارروائی کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کررہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی روز اول سے ہی غریب کسانوں اور ہاریوں کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں رہی ہے اور ہمیں ان کی مشکلات کا اندازہ ہے انہیں خود کفیل بنانے کے لئے کاشت کاری کے دوران پانی کی بروقت فراہمی کو یقینی بناکر کسانوں اور زراعت کو فروغ دیکر انہیں معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لئے کام کررہے ہیں ہماری کوشش ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پہلی ترجیح انسانوں اور ان کے گھروں کو بچا کر محفوظ بنانا ہے جس طرح لاکھوں کیوسک پانی کے ریلے گدو اور سکھر بیراج سے گزرے ہیں
ہم نے پہلے ان قومی اثاثوں کو بچایا ہے تاکہ پانی با آسانی انہیں نقصان پہنچائے بغیر گزر جائے اس کے بعد اپنے لوگوں ان کے گھروں اور مال مویشیوں اور فصلوں کو بچائیں اور ان بیراجز کے دروازے کھول کر پانی کو با آسانی گزارا ہے تاکہ وہ دروازوں کو کوئی نقصان نہ پہنچائے
انہوں نے کہا کہ نصیر آباد، صحبت پور اور دیگر علاقوں کے مکینوں کی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے ہم نے کوشش کی ہے کہ لوگوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنائیں جس طرح عدلیہ کی جانب سے 4 آرڈر کئے گئے اگر ان پر عملدرآمد کرتے تو بہت سی مشکلات پیدا ہوتی اس وقت بھی پانی چوری کرنے والے ایوان میں بیٹھے ہیں ہم نے غیر قانونی واٹر کورسز بند کئے ہیں
جس کی وجہ سے 50 ہزار ایکڑ رقبہ زیر کاشت آیا ہے میر حسن تک لوگوں نے چاول کی فصل کاشت کی ہے یہ تمام اقدامات حکومت اور محکمے کی جانب سے پانی کی پوری فراہمی سے ممکن ہوئے ہیں اور 30 فیصد چاول کاشت کرنے کی پالیسی کو نذر انداز کرتے ہوئے لوگوں نے 100 فیصد چاول کی کاشت شروع کر رکھی ہے اور مافیاز کے ساتھ ملکر پریس کانفرنس اور ہڑتال کرتے ہیں
جس سے دہشت گردوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور مافیاز ہی دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں حکومت نے کوشش کی ہے کہ اپنے کسانوں کو بروقت پانی کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ وہ اپنی فصلوں کی کاشت کو یقینی بناسکیں بلوں کی وصولی کا مسئلہ ہے کیونکہ علاقے میں امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے اس لئے کسان بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے اور نہ ہی حکومت کو آبیانہ اور دیگر دی جانے والی سہولیات پوری کرتے ہیں
گزشتہ سال بھی گندم کی ہدف سے زیادہ پیداوار ہوئی اور اس سال بھی ہدف سے زیادہ پیداوار ہوگی گزشتہ 15 سال سے پٹ فیڈر سمیت دیگر کینال میں کبھی بھی مقرر کردہ کیوسک پر پانی مہیانہیں کیا گیا ہم نے پٹ فیڈر میں 6800 کیوسک پانی مہیا کیا
جس سے فصلوں کی بہتر کاشتکاری ہوئی ہم نے چوروں کے خلاف کارروائی کی جس کی وجہ سے مافیاز نے احتجاج شروع کیا لیکن ہم اپنا کام کرتے رہیں گے اور مافیاز کو اپنے کام کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے کیونکہ ہم نے ہمیشہ زمینداروں کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں۔