|

وقتِ اشاعت :   September 27 – 2025

کوئٹہ : سینئر سیاسی و قبائلی رہنماء سابق وفاقی و صوبائی وزیر سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث کسانوں کا معاشی قتل کیا جارہاہے

بلوچستان کے 70 سے 80 فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت اور مالداری سے وابستہ ہے اگر یہی روش برقرار رہی تو آئندہ کوئی بھی کسان گندم کاشت نہیں کرے گا کیونکہ گزشتہ برس گندم کے بحران کی وجہ سے زمینداروں کو کروڑوں نقصانات ہوئے ہیں سابقہ دور حکومت میں 3 ملین ڈالر گندم کے نام پر کمائے گئے جس کی چھان بین ناگزیر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ کی اپنے وفد کے ہمراہ رند ہائوس کوئٹہ میں ملاقات کے دوران کیا۔ سردار یار محمد رند نے کہا کہ میری پاکستان کے 3 صوبوں میں زمینیں ہیں مگر مجبور ہوکر 50 فیصد کاشت کاری چھوڑ دی ہے

ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت اپنی پالیسیاں اور رویہ درست کریں کیونکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق کسان جاگ چکا ہے اور اپنے حقوق کے حصول کیلئے بھر پور آواز اٹھارہا ہے کسانوں کا اتحاد بننے جارہا ہے حکومت ہوش کے ناخن لے اور انہیں اتنا مجبور نہ کریں ان کے ہاتھ حکمرانوں کے گریبا جا پہنچیں انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف ، وزراء اعلیٰ کسانوں کے مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر حل کریںکیونکہ زراعت سے ہی ملک کی خوراک اور دیگر ضروریات ہونی ہے۔

اس موقع پر چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب گزشتہ دوسالوں سے گندم اور کاٹن کا ریٹ نہیں ملاموسمیاتی تبدیلوں سمیت دیگر مسائل کے باعث کسان شدید مشکلات سے دوچار ہیںوفاقی و صوبائی حکومتوں سے کسانوں پر رحم کی اپیل کرتے ہیںملک کے 70 فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے اگر کسان خوشحال ہوگا توپاکستان خوشحال ہوگا

حکومت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے گندم کے ریٹ نہ دینے پر انہوںنے پورے ملک میں احتجاج کا فیصلہ کیا ہے وفاقی وزیر صوبائی حکومتوں کو 15 دن کا الٹی میٹم دیتے ہیں گندم کاشت کرنے سے پہلے گندم کا ریٹ متعین کرے حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کئے تو اگلے سال 50 فیصد گندم کم کاشت کی جائے گی

انہوں نے کہا کہ ہم آج سینئر سیاستدان سابق وفاقی و صوبائی وزیر سردار یار محمد رند کے پاس اسی مقصد کیلئے آئے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں جس پر سردار یار محمد رند نے انہیں اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی جس پر خالد حسین باٹھ نے تعاون کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔