یوٹیوب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دائر مقدمے کے تصفیے کے لیے 2 کروڑ 45 لاکھ ڈالرز ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
یہ مقدمہ امریکی صدر کی جانب سے اس وقت دائر کیا گیا تھا جب 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل فسادات کے بعد ان کا یوٹیوب اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا تھا۔
یوٹیوب کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ویڈیوز تشدد پر اکسانے والی تھیں جس کے باعث ان کا اکاؤنٹ معطل کیا گیا۔
مارچ 2023 میں یوٹیوب نے ان کا چینل دوبارہ بحال کر دیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2021 کے وسط میں یوٹیوب کے ساتھ ساتھ فیس بک اور ایکس (جب اس کا نام ٹوئٹر تھا) کے خلاف مقدمات دائر کیے گئے تھے۔
جب سے ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار صدر بنے ہیں، ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے صدر کے ساتھ اپنے تنازعات کو ختم کیا جا رہا ہے۔
اس معاہدے کے بعد گوگل کی زیرملکیت کمپنی یوٹیوب میٹا (فیس بک) اور ایکس (ٹوئٹر) کے بعد تیسری بڑی ٹیکنالوجی کمپنی بن گئی ہے جس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اسی طرح کے قانونی تنازعات کو حل کیا ہے۔
اس سے قبل میٹا نے امریکی صدر کے ساتھ ڈھائی کروڑ ڈالرز اور ایکس نے ایک کروڑ ڈالرز کے تصفیے کیے تھے۔
گوگل کا یہ تصفیہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی اٹارنی جنرل کی جانب سے کمپنی پر اشتہارات کے کاروبار کو الگ کرنے کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے، کیونکہ کچھ عرصے قبل ایک امریکی فیڈرل جج نے گوگل کو اشتہارات میں اجارہ دار ادارہ قرار دیا تھا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق یوٹیوب کی طرف سے ادا کی گئی رقم میں سے2 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز وائٹ ہاؤس میں ایک نئے بال روم کی تعمیر کے لیے استعمال ہوں گے، جبکہ بقیہ 25 لاکھ ڈالرز دیگر مدعیان کو ملیں گے۔
ٹرمپ کے وکیل جان پی کول نے کہا کہ ان مقدمات کے تصفیے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا دوبارہ منتخب ہونا ایک اہم عنصر تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر وہ دوبارہ منتخب نہ ہوتے تو ہم 1000 سال تک عدالت میں رہتے’۔