|

وقتِ اشاعت :   October 1 – 2025

کوئٹہ: اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کی کال پر آج دوسرے روز بھی اساتذہ کرام نے اپنے بازوں پر کالی پٹیاں باندھ کر یونیورسٹی آف بلوچستان میں اپنے جائز مطالبات کے لئے یوم سیاہ بنایا گیا۔

اس موقع پر اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، پریس سیکرٹری رحمت اللہ اچکزئی، ڈاکٹر گل محمد بلوچ اور ہاشم جان کھوسو نے سائنس بلاک کے مختلف شعبہ جات میں اساتذہ کرام کا دورہ کیا اور اساتذہ کرام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اساتذہ کرام اور افسران کو منظور شدہ اپ گریڈیشن اور الاؤنسز دینے کی بجائے بلوچستان حکومت کی افسر شاہی سے اجازت لینے کیلئے لکھ کر یونیورسٹی آف بلوچستان کی خودمختاری پر سمجھوتہ کیا اور اب افسر شاہی اور نام نہاد کنسلٹنٹس کے حکم پر مزید منظور شدہ الاونسز کو ختم کرنے جارہی ہیں

جس سے اساتذہ کرام اور ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں خطرناک حد تک کمی واقع ہوگی انہوں نے کہا کہ اساتذہ کرام کی منظور شدہ خالی اسسٹنٹ، ایسوسی ایٹ اور پروفیسرز کی درجنوں آسامیوں کو مشتہر نہیں کررہے ہیںمزید یہ کہ کالونی میں رہائش پذیر اساتذہ اور ملازمین سے غیرقانونی کٹوتیاں کی جارہی ہیں، جبکہ دو سو سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کو آج تک پینشنز کنٹریبیوشن نہیں دیاگیا اور بقایاجات و لیو انکیشمنٹ کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی جو کہ ایک اساتذہ دشمن اقدام ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اپ گریڈیشن اور آسامیوں کو مشتہر کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں، غیرقانونی کٹوتیاں ختم کی جائیں اور پینشنز کنٹریبیوشن اور بقایاجات کی ادائیگی کی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈین فیکلٹی آف سوشل سائینسز کی تعیناتی میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی جو دراصل متعلقہ فیکلٹی میں اہل اساتذہ کے حق تلفی ہے انہوں نے اعلان کیا کہ کہ ہفتہ سیاہ منانے کے سلسلے میں بروز جمعرات کو بھی یوم سیاہ منایا جائے اور وائٹ پیپر تقسیم کیا جائے گا اور اگلے ہفتے سے جامعہ کے مین گیٹ اور پریس کلب کوئٹہ کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے جس میں سینکڑوں موجودہ اور ریٹائرڈ اساتذہ کرام اور ملازمین بھرپور انداز میں شرکت کریں گے۔