امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے غزہ امن معاہدے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس پر تمام مسلم اور عرب ملکوں نے اتفاق کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ جنگ بندی کے لیے مجوزہ تجویز 20 نکات پر مشتمل ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی دو حکومتوں کے حکام کی تصدیق سے تیار کی گئی رپورٹ کے مطابق ان نکات میں فوری جنگ بندی، موجودہ جنگی محاذوں کو منجمد کرنا، تمام 20 زندہ یرغمالیوں کی رہائی اور 24 مردہ یرغمالیوں کی باقیات کی واپسی شامل ہیں۔
مجوزہ معاہدے کے تحت تمام مغویوں کی رہائی کے بعد اسرائیل 250 عمر قید کے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ساتھ 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیے گئے 1700 غزہ کے شہریوں کو بھی رہا کرے گا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ مجوزہ معاہدے میں حماس کے تمام جارحانہ ہتھیار تباہ کرنا، ہتھیار ڈالنے والے حماس جنگجوؤں کو عام معافی دینے، جو غزہ سے جانا چاہیں ان حماس ارکان کو محفوظ راستہ فراہم کیا جانا بھی شامل ہے۔ امریکی صدر کے 20 نکاتی ایجنڈے میں غزہ میں انسانی امداد کی فوری فراہمی، امداد کی مساوی تقسیم، غزہ سے کسی کو جبری بے دخل نہ ہونے، غزہ واپس آنے والوں کو واپسی کا حق حاصل ہونے، حماس کا غزہ کے مستقبل میں کوئی کردار نہ ہونے کی تجویز شامل ہیں۔
غزہ میں فلسطینیوں اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل عارضی عبوری حکومت بنانے اور عبوری حکومت ایک نئی بین الاقوامی تنظیم کے تحت کام کرنے، غزہ میں عارضی بین الاقوامی سکیورٹی فورس تعینات کرنے کرنے کے نکات منصوبے کا حصہ ہیں۔
ٹرمپ اقتصادی ترقیاتی منصوبے کے تحت غزہ کی تعمیر نو، مستقبل میں غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات شامل ہیں۔
مجوزہ معاہدے میں ایک غیر واضح دائرے میں موجودگی کے علاوہ اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار غزہ سے انخلا، اسرائیل کو غزہ پر دوبارہ قبضہ یا الحاق کی اجازت نہ ہونے، اسرائیل کا قطر پر مزید حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
ترقیاتی و سیاسی اصلاحات مکمل ہونے پر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابل اعتماد راستہ کھولا جاسکنے ، پْرامن اور خوشحال ہم آہنگی کے لیے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکراتی عمل قائم کرنے کے نکات بھی امن منصوبے کا حصہ ہیں۔
امریکی صدر نے کہا ہے کہ تمام مسلم ملکوں نے اس امن منصوبے کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی اس منصوبے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا امن منصوبہ وہ نہیں جس میں ہماری ساری تجاویز موجود ہوں، اس ڈرافٹ میں ہماری تجویز کردہ تمام ترامیم شامل نہیں ہیں۔
غزہ سے لوگوں کو زبردستی نکالا جارہا ہے اورجو جاچکے ہیں ان کو واپس نہیں آنے دیا جارہا۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، اردن، مصر، پاکستان، ترکیے اور انڈونیشیا سمیت 8 ممالک نے فیصلہ کیا کہ خاموشی سے غزہ کے معاملے پرسنجیدہ کوشش کریں گے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ 8 ممالک کے رہنماؤں اور وزرائے خارجہ کی ٹرمپ اور ان کی ٹیم سے ملاقات طے ہوئی، ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے 8 ممالک کے وزرائے خارجہ نے حکمت عملی بنائی۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں میری ٹیم اور 8 ممالک کی ٹیم بیٹھ جائے اورپلان بنالیں کہ کیا ہوسکتا ہے، ہم نے ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ ملاقات کی اور کہا کہ آپ کے ذہن میں کیا ہے، ٹرمپ کی ٹیم نے ہمیں نکات دیے، ہم نے ٹرمپ کی ٹیم کو کہا کہ 24 گھنٹے میں ہم ان نکات میں اپنی ترامیم پیش کریں گے۔
نائب وزیر اعظم نے کہاکہ اس ڈرافٹ میں ہماری تجویز کردہ تمام ترامیم شامل نہیں ہیں، ہم نے مشترکہ بیان میں امریکی صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا ہے اور ساتھ اپنے ایجنڈے کو بھی دہرایا ہے، ہم ٹرمپ اور اس کی ٹیم کے ساتھ مل کر اپنے اس ایجنڈے کو حاصل کریں گے۔
اس سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ 8 اسلامی ملکوں کے منصوبے کے تحت فلسطین میں امن فورس تعینات ہوگی، امید ہے کہ پاکستان بھی فورس فلسطین بھیجنے سے متعلق فیصلہ کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 8 اسلامی ملکوں کی قیادت کی ملاقات کا صرف ایک نکاتی ایجنڈا تھا کہ کسی طریقے سے غزہ میں فوری جنگ بندی کی کوشش کی جائے، جنگ بندی کے فوری بعد غزہ کی تعمیر نو کی جائے، مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کو روکا جائے۔
بہرحال فلسطینیوں کی مرضی کے بغیر غزہ میں دیرپا امن اور مستقل حل ممکن نہیںلہذا فلسطینیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہونا چاہئے اور انہیں ایک علیحدہ ریاست ملنا چائیے تب جاکر فلسطین کا مسئلہ حل ہوگا۔
امریکی صدر ٹرمپ کے امن تجاویز، فلسطینیوں کی منشاء و مرضی کے بغیر مسئلہ فلسطین کا حل ممکن نہیں!
![]()
وقتِ اشاعت : October 1 – 2025