|

وقتِ اشاعت :   October 3 – 2025

بلوچستان میں صوبائی حکومت نے کبھی اپنی مدت پوری نہیں کی، ہر نئی حکومت بننے کے چند سال بعد حکومتی جماعت کے اندر اور اتحادیوں کی جانب سے اپنے وزیراعلیٰ سے ناراضگی کا اظہار کیا جاتا ہے ،مختلف فورمز پر الزام تراشی کی جاتی ہے کہ وزیراعلیٰ ہمیں اعتماد میں لئے بغیر اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرتا ہے۔
محکموں کے سیکرٹریز، فنڈز سمیت دیگر معاملات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں جبکہ یہ بھی گلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں فیصلہ سازی سمیت اختیارات سے محروم رکھا گیا ہے ہم بے اختیار ہیں ،منظور نظر وزراء و اراکین اسمبلی کو نوازا جاتا ہے۔
بلوچستان کے جتنے بھی وزراء اعلیٰ گزرے ہیں بیشتر پر اسی طرح کے الزامات لگے ہیں جس کا نتیجہ عدم اعتماد کی صورت میں سامنے آیا اور منتخب وزیراعلیٰ کو فارغ کیا گیا ۔
اب ایک بار پھر بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے متعلق ان کی اپنی جماعت کے ارکان اور ایک دو اتحادی اپنے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں، عدم اعتماد کی باز گشت چل رہی ہے جو کہ اتنی موثر دکھائی نہیں دے رہی ۔
پیپلز پارٹی کے ایک صوبائی وزیر اور ایک پارلیمانی سیکرٹری نے کھل کر وزیراعلیٰ کے خلاف تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن اسمبلی نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد آتی ہے تو وہ اس کی حمایت کریں گے۔
پیپلز پارٹی کے دو اراکین اسمبلی کا الزام ہے کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی پالیسیوں نے پیپلز پارٹی کا بیڑا غرق کر دیا ہے اور کسی کارکن یا رہنما کے کام نہیں ہو رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ ن لیگ کو باور کراتے ہیں کہ وہ ان کے وزیراعلیٰ ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ خود کو ان کا وزیراعلیٰ قرار دیتے ہیں جو ان کے بقول ’دوغلے پن‘ کی واضح مثال ہے۔
پیپلز پارٹی کے میر علی حسن زہری اور میر لیاقت لہڑی جبکہ مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی نواب جنگیز مری کی جانب سے ہی صرف تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے دیگر اراکین، ن لیگ، باپ کی جانب سے مکمل اعتماد نظر آرہا ہے۔
بہرحال اختلاف رائے رکھنا جمہوری حق ہے اگر واقعی حقیقی تحفظات ہیں تو انہیں وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے ایڈریس کیاجانا چاہئے مگر حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بلوچستان کیلئے مزید مسائل کا سبب بنے گی جس کا اثر صوبے کی گورننس سمیت دیگر معاملات پر پڑے گا۔
بلوچستان میں حکومتی تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے بھی پسماندگی و محرومیوں نے جنم لیا ہے جس کا حل وزیراعلیٰ کی تبدیلی نہیں بلکہ حکومتی تسلسل ،گڈ گورننسمیں پنہاں ہے۔
امید ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ساتھیوں کے تحفظات دور کریں گے اور تمام اراکین کے حلقوں میں یکساں ترقی کو ترجیح دیں گے جن سے عوام کو فائدہ پہنچے۔