|

وقتِ اشاعت :   October 3 – 2025

پنجگور: جماعت اسلامی کے صوبائی امیر و رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے حق دو تحریک پنجگور کی جانب سے بارڈر کی بندش کے خلاف منعقدہ عوامی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متبادل روزگار کی فراہمی کے بغیر بارڈر کو بند کرنا یہاں کے لاکھوں عوام کے معاشی قتل عام ہے جس کی ہم بھرپور انداز مذمت کرتے ہیں اور اس اہم مسلے پر بلوچستان بھر میں احتجاجی شیڈول کا اعلان کرکے بلوچستان اسمبلی کے سامنے جاکر دھرنا دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ میں ہر وقت اسمبلی فورم پر بارڈر کے مسلے پر آواز اٹھاتا آیا ہوں

اور موجودہ اسمبلی سیشن میں بھی بارڈر کی بندش پر آواز اٹھاکر احتجاج کیا انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ اجتماعی ہے مکران اور رخشان ڈویژن کے عوامی نمائندوں کو چائیے کہ وہ بے روزگاری کی عفریت کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کریں اور اپنے عوام کے روزگار کا دفاع کریں مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ بارڈر کی بندش سے جس طرح کا معاشی بحران جنم لے چکا ہے اسکے بہت سنگین اور خطرناک اثرات ہمارے معاشرے پر پڑیں گے نوبت اب یہاں تک جاپہنچی ہے کہ لوگوں کے پاس پیسے نہیں کہ وہ اپنے گھریلوضروریات اور بچوں کے تعلیم اور علاج معالجے کی اخراجات پوری کرسکیں لوگ مجبورہوکر اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں سے نکال رہے ہیں کہ انکے پاس فیسوں کے لیے پیسے نہیں

انہوں نے کہا کہ عوام اپنے روزگار کے تحفظ کے لیے اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کریں اور فیصلہ کریں کہ وہ بھوکا رہنا پسند کریں گے یا روزگار کی خاطر اتحاد واتفاق کا راستہ اپنائیں گے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ صوبائی حکومت سے خیر کی کوئی توقع نہیں ہے یہ بے اختیار لوگ ہیں

ان سے زیادہ بااختیار تو ایک صوبیدار ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا روزگار بحال ہو اور ہمارے لوگ باعزت طریقے سے کاروبار کرکے اپنے بچوں بچوں کو دو لقمہ کھانا کھلائیں تو ہمیں تمام مجبوریوں سے بالاتر ہوکر چمن سے لیکر گوادر تک ایک لاکھ لوگوں کو اکھٹا کرکے کوئٹہ کی طرف مارچ کرنا ہوگا تب جاکر یہ بے حس حکمرانوں کو احساس ہوگا وگرنہ پھر فاقے ہمارا مقدر ٹھریں گے جرگہ سے مسلم لیگ ن کے ڈویزنل صدر اشرف ساگر، حق دو تحریک کے ضلعی آرگنائزر ملا فرہاد،بارڈر بچاو کے رہنما نجیب سلیم،حق دو تحریک کے ڈپٹی آرگنائزر حافظ سراج احمد قاضی عبدالواحد اور دیگر نے بھی خطاب کیا