اسلام آباد (این این آئی) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ شہبازاینڈ کمپنی ایک ایسے آدمی کے لیے نوبل پرائز کی سفارش کی جارہی ہے
جو ستر ہزار فلسطینیوں کے قاتل کا مکمل ساتھی ہے۔ اس سے پہلے ٹونی بلئیر نے صرف ایک الزام پر عراق پر چڑھائی کی لاکھوں انسانوں کو مارا پھر صرف ایک Sorryکی کہ معذرت ہم نے جس ہتھیار شک کیا تھا وہ عراق میں نہیں تھا ۔ اگر شہباز اینڈ کمپنی کو واقعی آزادی صحافت اور صحافی حضرات کا خیال ہے تو کل ہی کے اجلاس میں کسی ایم این اے سے یہ قرارداد پاس کرائیں کہ پیکا ایکٹ ختم ۔ حولدار سپیکر نے کہا کہ میں کسی دہشت گرد کو اسمبلی میں بولنے نہیں دونگا۔ شہباز سے بڑا دہشت گرد کون ہے ؟ جس نے گزشتہ الیکشن میں رات 9بجے کے بعد زر اور زور کی بنیاد پر 25کرورر انسانوں کو دہشت زدہ کرکے اقتدار پہ قبضہ کرکے جھوٹ کی بنیاد پر حکومت قائم کی ۔
قرآن کریم کا حکم ہے جھوٹے کی گواہی نہیں ہوں گی۔
محمود خان اچکزئی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے پریس کانفرنس میں کہا کہ کل قومی اسمبلی کا اجلاس تھا کسی کو بھی درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا کہ کشمیر میں تحریک چل رہی ہے یا فلاں جگہ انسان مررہے ہیں بلکہ اسمبلی میں سپیکر کے پیٹ میں بڑا درد تھا کہ عمران خان نے ایک صحافی کے ساتھ رویہ غلط رکھا ہے ۔ حوالدار سپیکر اور میرے دو نمبر وزیر اعظم نے اس بات کو بڑا اُچھالا ۔قرار داد بھی پاس کرایا اگر واقعی انہیں آزادی صحافت یا صحافیوں کا خیال ہے ان کو یہ عزیز ہے تو بسم اللہ کل اجلاس ہے۔ سپیکر صاحب کسی ایم این اے سے قرارداد دلائیں کہ پیکاایکٹ ہم نے ختم کردیا ۔ میڈیا آزاد ۔
جو بدمعاشیاں عدالت میں ہورہی ہیں وہ ختم پاکستان اپنے راستے پہ چل پڑیگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ فلسطین پر بات ہورہی ہے ، ٹونی بلیئر ریکارڈ پہ ہے جب انہوں نے غلط جذباتی انداز میں دنیا کو یہ باور کرادیا کہ دنیا کے پاس ہتھیار ہیں اور پھر جس انداز میں لاکھوں انسانوں کو مارا تین دفعہ عراق پر چڑھائی کی پھر یہ کہا گیا کہ معافی چاہتے ہیں ۔
وہاں ہتھیار نہیں تھے ۔ بس ایک Sorryلاکھوں انسانوں کے مارنے کے بعد کہی گئی ۔ ایک الزام پر آپ لوگوں کا سارا نظام بگاڑ دینگے ۔ آپ چڑھ دوڑ ینگے لوگوں کے ملکوں پر اور پھر دنیا کے سامنے کہینگے کہ Sorryہم غلطی کرگئے ۔ ایک سوری مسلمانوں کے لیے کافی ہے؟ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس قسم کی بلا کو شہباز اینڈ کمپنی سپورٹ کررہی ہے ۔
شہباز اینڈ کمپنی ایک ایسے آدمی کے لیے نوبل پرائز کی سفارش کی جارہی ہے جو ستر ہزار فلسطینیوں کے قاتل کا مکمل ساتھی ہے۔ اس نوبل ایوارڈ کے ستاھ یہ بھی لگایا جائے کہ انہوں نے ستر ہزار انسانوں کے قتل کو جائز قرار دیا اور ٹونی بلئیر کو ڈکلیئر کیا ۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ حوالدار سپیکر نے اسمبلی میں کہا کہ میں یہاں کسی دہشت گرد کو بولنے نہیں دونگا۔ شہباز سے بڑا دہشت گرد کون ہے جس نے موجودہ الیکشن کے رات 9بجے کے بعد زر اور زور کی بنیاد پر 25کرورڑ انسانوں کو دہشت زدہ کرکے جھوٹ کی بنیاد پر اقتدار پہ قبضہ کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر ایک انسان پر جھوٹ ثابت ہو جائے جب تک وہ توبہ نہ کرے جب تک وہ جرم سے منکر نہ ہو اُس کی گواہی کسی عدالت میں قبول نہیں کی جائے گی یہ قرآن کا حکم ہے ۔ اسلامی دنیا میں جھوٹے کی کہیں بھی گواہی قابل قبول نہیں ہوگی ۔ یہ سارے جھوٹے ۔
جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ یہ ہمارے نمائندے بن کر ہمارے ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔
ہم اس ملک کو اس بحران سے نکالنا چاہتے ہیں اس کے دو راستے ہیں ایک یہ کہ عسکر ی اور دوسرے ادارے غلط طور پر اقتدار پر قابض ہیں وہ توبہ کرلیں موجودہ جو ہمارا ملک ہے اس کا جو آئین ہے جس پہ ہم عملدرآمد چاہتے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بنا تھا ۔ اس پہ ولی خان ، مفتی محمود ، شاہ احمد نورانی ، پیپلز پارٹی کے دستخط ہیں ۔
بسم اللہ اس ملک کو بحران سے نکالنا ہے ۔ فضل الرحمن صاحب بسم اللہ کریں ۔ قومی اسمبلی میں کہہ دیں کہ میں موو کرتا ہوں کہ 73کا آئین اسے اصل حالت میں بحال کیا جائے جو ہمارے اکابرین نے بنایاتھا ۔ پاکستان کا بحران ختم ہوجائے گا۔ یہاں بات کی جارہی ہیے کہ عمران خان کو کون سنبھالے گا ۔ آئین بالادست ہوگا ، ون مین ون ووٹ کا احترام کیا جائے گا، ایک نیا الیکشن کمیشن جس کے ذریعے صاف شفاف انتخابات ہوں گے ، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوں گی جو لوگ یہاں رہتے ہیں ان کا اپنے وسائل پر اپنا اختیار ہوگا ۔ آپ دستخط کردیں عمران خان کا دستخط ہم لے آئینگے ۔ آئیں ایک نئے پاکستان کی تعمیر کریں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کا ایک مشہور نعرہ تھا دما دم مست قلندر پھر ہم مجبور ہیں کہ اس ظلم کے خلاف قرآن کریم کے آیت کے مطابق جابر ظالم بادشاہ کے خلاف کلمہ حق کہیں۔ یہ کام ہم نے کرنا ہے ۔ اس موجودہ حکومت نے جو بڑا جرم کیا ہے تاریخی جرم کیا ہے وہ یہ ہے کہ 75سال سے جو کچھ جمہوری لوگوں نے حاصل کیا تھا پہلے مارشل لاء میں بہت شریف ججوں نے اپنے بچوں کی پیٹ پہ لاتھ مارکر انکار کیا تھا ۔ دوسرے ،تیسرے مارشل لاء میں ہزاروں لوگوں نے کوڑے کھائے ، سینکڑوں کارکن مار دیئے گئے ۔ ان سب پہ شہباز اینڈ کمپنی نے پانی پھیر دیا۔ ہمارے ساری جمہوری آزادیوں کو تہس نہس کردیا ۔ انہیں ہر صورت عوام کی طاقت سے اقتدار سے ہٹانا ہے اگر ہم ساری سیاسی پارٹیاں بیٹھتیں ہیں ایک چیز پر متفق ہوتے ہیں پھر اپنے عوام کے پاس جانا ہے۔ ہماری سٹیبلشمنٹ سے کوئی دشمنی نہیں سٹیبلشمنٹ اپنی اس فریم میں رہیں جو آئین نے آپ کے لیے رکھا ہے ۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان ہر اس جج ، جرنیل ، ملک ، چوہدری ، خان ، سردار کی مخالف ہے جو آئین کو نہیں مانتا ۔ آئین سماجی معاہدہ ہے پانچ آدمیوں کا کام نہیں جس طرح ضیاء الحق نے کہا تھا میں آئین کو نہیں مانتا میں اسے پھینک دیتا ہوں ۔ پھینکے کا نتیجہ آپ نے دیکھ لیا ۔ دنیا کے امیر ترین ملکوں میں سے ایک پاکستان ہے ۔ قرآن کریم میں جتنی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الرحمن میں بیا ن کی ہیں وہ پاکستان میں ہیں پھر ہمارے لوگ دوسرے وطنوں میں کیوں زندگی گزار رہے ہیں ۔ کیوں 50فیصد سے زائد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں۔ آئیں پاکستان کے وسائل کو لاکھوں ، کرورڑوں لوگوں کی خدمت میں لگائیں ۔
آئیں غریب انسانوں کے لیے روٹی کا بندوبست کریں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارے ہیں ہمارے عوام کے ہیں لیکن ہم دنیا کی جمہوری قوتوں سے درخواست کرتے ہیں کہ ایک ایسی حکومت کے ساتھ ڈیل نہ کریں جو غیر آئینی ،غیر قانونی ، غیر جمہوری اور غیر انسانی ہے۔ اور اگر ان سے آپ کرینگے تو ہمارے ان اکابرین کی باتوں کا خیال نہیں رکھا انہیں مسترد کیا تو پھر ہم سے گلہ نہیں کریں۔ تحریک ہم نے چلانی ہے ۔