کوئٹہ:برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے مشیروں نے امریکی حکام سے رابطہ کیا ہے اور انہیں بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں ایک بندرگاہ کے ترقیاتی منصوبے کی پیشکش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش واشنگٹن کو خطے کے ایک نہایت اسٹریٹجک مقام تک ممکنہ رسائی فراہم کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجوزہ منصوبے کے تحت امریکی سرمایہ کاروں کوساحلی شہر پسنی کے بندرگاہ کو تعمیر کرنے اور اسے چلانے کی اجازت دی جائے گی۔ پسنی، ایران کی سرحد سے تقریباً 100 میل اور گوادر سے 70 میل مشرق میں واقع ہے، جہاں چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو(بی آر آئی) کے تحت گوادر میں بڑی گہری بندرگاہ تعمیر کی ہے۔یہ مجوزہ بندرگاہ پاکستان کے قیمتی معدنی وسائل کے لیے ایک مرکز کے طور پر کام کرے گا۔
فنانشل ٹائمز نے دو نام ظاہر نہ کرنے والے سول مشیروں کے حوالے سے بتایا کہ یہ پیشکش غیر رسمی طور پر کچھ امریکی حکام کو دی گئی تھی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ان کے حالیہ دورہ واشنگٹن سے قبل دکھائی گئی تھی، جہاں ان کی ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ہوئی۔تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے اس بات کی تردید کی ہے کہ صدر یا ان کے مشیروں کے ساتھ کسی ایسے منصوبے پر بات ہوئی ہو۔
رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ ان کئی تجاویز میں سے ایک ہے جو پاکستانی حکام نے حالیہ مہینوں میں امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے پیش کی ہیں۔ دیگر تجاویز میں افغانستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش خراسان کے خلاف تعاون، صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی حمایت، اور پاکستان کے معدنی وسائل تک امریکی رسائی میں سہولت فراہم کرنا شامل ہیں۔ایک مشیر نے فنانشل ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ تعلقات کودوبارہ متعین کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا،’’ہم نے گزشتہ دو دہائیوں میں اس تعلق کو وہ اہمیت نہیں دی جس کی ضرورت تھی۔ اس دوران ہندوستان نے وہ خلا پْر کر دیا جو ہم نے چھوڑا تھا۔‘‘ برطانوی اخبار کے مطابق منصوبے کے خاکے میں بتایا گیا ہے کہ پسنی بندرگاہ کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر درکار ہوں گے جو وفاقی فنڈنگ اور امریکا کی معاون ترقیاتی سرمایہ کاری کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔
منصوبے میں پسنی کو ملک کے معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں خصوصاً ریکو ڈک سے جوڑنے کے لیے ایک ریلوے لائن کی تعمیر بھی شامل ہے تاکہ تانبا، اینٹی منی اور دیگر قیمتی معدنیات کی ترسیل کی جا سکے۔منصوبے کے خاکے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس بندرگا ہ کے منصوبے میں امریکی فوجی اڈے کے قیام کا کوئی پہلو شامل نہیں ہے اور اسے مکمل طور پر ایک تجارتی منصوبہ قرار دیا گیا ہے۔دوسری جانب، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے معدنی شعبے میں امریکی دلچسپی کے آثار پہلے ہی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ستمبر میں امریکی کمپنی “یو ایس اسٹریٹجک میٹلز” (USSM) نے پاکستان کی فوجی انجینئرنگ تنظیم کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے، جس کا مقصد معدنیات کی کان کنی اور پراسیسنگ کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔