کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ مجموعی طور پر ہمارے وسائل کم لیکن مسائل بہت زیادہ ہیں جسکی سے تمام عوامی مشکلات کو بیک وقت حل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہم عوامی مسائل اور تحفظات کو دور کرنے کیلئے شعوری کوششیں رہے ہیں.
باڈر ٹریڈز سے لیکر صنعت و تجارت تک اور تعلیمی اداروں سے لیکر نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی تک ہم نہ صرف عوام کے درپیش مسائل کو سے سنتے ہیں بلکہ متعلقہ حکام کو بھی وقتاً فوقتاً آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ ان خیالات کا انہوں نے ممتاز تاجر صادق خان ادوزئی کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلا شک و شبہ چمن اور تفتان صوبہ بلوچستان کی دو اہم سرحدی تجارت کے مراکز ہیں جن سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہیں۔
موجودہ حکومت بارڈ ٹریڈ کی ترقی کے ساتھ ساتھ پورے صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے پرعزم ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ عوامی شکایات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے۔
سرحدی تجارت کا فروغ صوبے کی سطح پر معاشی ترقی اور خوشحالی کیلئے ایک اہم محرک ہے۔
بعدازاں گورنربلوچستان سے چمن کے مرکزی انجمن تاجران کے صدر حبیب اللہ اچکزئی کی قیادت میں ایک وفد نے علیحدہ ملاقات کی. انہوں نے گورنربلوچستان کو چمن کے تاجروں اور کاروباری حضرات کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا جس کے جواب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ قومی سطح متعدد بڑے تاجر پیشہ افراد کا تعلق چمن سے ہیں. وہ صوبے میں نئے کارخانے اور انڈسٹریز قائم کر کے نوجوانوں کو روزگار دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں. ایک سوال کے جواب میں گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہم چمن شہر میں بجلی لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔