گوادر: آج رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن کی سربراہی میں پانی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں،
چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ، اور ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان، چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گوادر ڈاکٹر عبدالشکور خان، ایکسیئن پی ایچ ای مومن علی، چیئرمین میونسپل کمیٹی گوادر ماجد جوہر، وائس چیئرمین ہوت سیف اللہ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں موجودہ پانی بحران پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور بحران پر قابو پانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت شادی کور ڈیم سے پانی کی سپلائی جاری ہے،
جبکہ میرانی ڈیم سے ٹینکرز کے ذریعے پانی فراہم کیا جا رہا ہے،
جس میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح پرانی آبادی کے علاقوں کو جی پی اے واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کے ذریعے پانی دیا جا رہا ہے۔شہر میں پانی کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔
بتایا گیا کہ باری باری شہر کے دیگر علاقوں میں بھی پانی کی سپلائی کا سلسلہ جاری رہے گا،
اور اس وقت شہر کو جزوی طور پر پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ امید ظاہر کی گئی کہ مزید ٹینکرز کی شمولیت کے بعد آئندہ چند دنوں میں پانی بحران پر قابو پا لیا جائے گا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ موجودہ ریٹس پر بعض ٹینکر مالکان کو اعتراض ہے اور مالی مشکلات کے باعث وہ پانی کی سپلائی سے گریزاں ہیں۔ اس تناظر میں صوبائی حکومت سے ریٹس میں مناسب اضافہ کرنے کی سفارش کا فیصلہ کیا گیا تاکہ پانی کی سپلائی میں تسلسل اور بہتری لائی جا سکے۔
مزید یہ طے پایا کہ دستیاب پانی کا ایک حصہ اس وقت مختلف سرکاری ادارے اپنے ٹینکرز کے ذریعے اٹھا رہے ہیں، جس کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمرشل کنزیومرز اور سرکاری ادارے اپنی ضروریات کے لیے اپنے بجٹ سے ٹینکرز کا بندوبست خود کریں،
جبکہ پبلک اسٹوریج سے فراہم کیا جانے والا پانی صرف عوام کے استعمال کے لیے مخصوص ہوگا۔پانی کی منظم تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ جس علاقے میں پانی سپلائی کی جائے، وہاں جی ڈی اے اور پی ایچ ای کا عملہ مقامی ایریا کونسلر کے ہمراہ موجود ہوگا۔
تاکہ گھروں تک پانی کی منصفانہ فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
بعد ازاں ٹینکرز مالکان کے ایک وفد نے بھی ایم اپنی اے مولانا ہدایت الرحمٰن، ڈی جی جی جی ڈی اے معین الرحمٰن خان اور اے ڈی سی ڈاکٹر عبدالشکور خان سے ملاقات کی اور میرانی ڈیم سے پانی سپلائی سے متعلق اپنے مسائل سے آگاہ کیا ٹینکر مالکان کے خدشات دور کرنے کے لیے اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ان کو ہر پندرہ دن بعد باقاعدہ ادائیگی یقینی بنائی جائے گی اور ان کے جائز واجبات کی ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر، کمیشن یا رکاوٹ نہیں ہوگی۔
انہوں نے اپیل کی کہ ٹینکر مالکان اس مشکل وقت میں حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، تاکہ عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔اجلاس میں جیونی اور گردونواح کیلئے ٹینکرز کے ذریعے پانی سپلائی شروع کرنا کا فیصلہ ہوا جس کا بندوبست پی ایچ ای کریگا۔
اجلاس کے اختتام پر شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ موجودہ صورتحال میں صبر، تعاون اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں، اور پانی بحران پر کسی قسم کی سیاست یا اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔