کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے ایک بار پھر صوبے میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوامی حقوق کی محرومی پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر)پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل سے پوری دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے، مگر صوبے کے عوام آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
انہوں نے بلوچستان کے مختلف منصوبوں اور ان سے جڑے بیرونی یا ملکی مفادات پر تنقید کرتے ہوئے کہا سوئی گیس پورے پاکستان کے لیے، سیندک چین کے لیے، ریکوڈک کینیڈا کے لیے، سی پیک باقی صوبوں کے لیے، گوادر چین کے لیے، پسنی امریکا کے لیے لیکن بلوچستان کے حصے میں صرف نسل کشی آئی ہے۔
بی این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام دہائیوں سے اپنے وسائل پر اختیار اور بنیادی سہولتوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، مگر ان کے حصے میں محرومیاں ہی آتی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قدرتی گیس، معدنیات اور ساحلی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد دوسرے صوبوں اور غیر ملکی کمپنیوں تک محدود ہیں، جب کہ بلوچستان کے لوگ تعلیم، صحت، روزگار اور صاف پانی جیسی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔
اختر مینگل نے مزید کہا کہ اگر بلوچستان کے وسائل سے پورا ملک ترقی کر سکتا ہے تو بلوچستان کے عوام کو بھی اس ترقی میں برابر کا حصہ دیا جانا چاہیے ان کے مطابق انصاف پر مبنی پالیسیوں اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم ہی بلوچستان کے مسائل کا مستقل حل ہے۔