ژوب: ملک میں صحیح جمہوریت قوموں کے حقوق اور حقیقی فیڈریشن کیلئے آئین میں ترمیم کیا جائے اپنے شہداء کے نقش قدم اور افکار پر چل کرہم اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں پشتون خطہ میں جنگ امریکہ کیلئے لڑی جارہی ہے
ہمارے وطن میں نایاب زمینی معدنیات کے حصول کیلئے طاقتور قوتیں ایک اور جنگ چھیڑنا چاہتی ہیں دوسری جانب پشتونوں کا معاشی قتل عام جاری پشتونوں پر تجارت کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں دالبندین چیک پوسٹ کھلی ہے جبکہ چمن بارڈر تاحال بند ہے ملک میں جمہوریت کے نام پر آمریت ہے اور بدترین کرپشن جاری ہے۔
ان خیالات کا اظہار پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا مرکزی سیکرٹری اللہ نور خان نازک شیرانی نعمت اللہ مندوخیل نیک خروٹی میروائس خان اور ایمل ساروان نے پریس کلب کے سامنے شہدا 7اکتوبر اور شہدا 11 اکتوبر کے برسی کی مناسبت سے بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا
مقررین نے کہا کہ پشتون وطن میں دوسروں کی جنگ لڑی جارہی ہے اور اس میں پشتونوں کو تباہ کیا جارہا ہے آ ج پشتون وطن جنگ کا شکار ہے
حکمران پشتون وطن کے معدنیات پر امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ہمارے وطن کے معدنیات اور لاکھوں ایکڑ اراضی کو قبضہ کیا جارہا ہے بہتر تو یہ ہے کہ پشتون قوم اور پاکستان یہ معدنیات خود استعمال میں لائے خودبھی زر مبادلہ کمائے اور مالک بھی حقوق دے مگر ان نایاب معدنیات کے حصول کیلئے دو طاقتور ممالک اپنی زور آزمائی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں امن کی ابتر صورتحال ہے کسی کا جان مال عزت محفوظ نہیں بیروزگاری سے تعلیم یافتہ نوجوان خودکشی پر مجبور ہیں کاروبار نہیںہے تجارت بند کی اگر پشتونوں کے معمولی کاروبار کو سمگلنگ کا نام دیکر بند کردیا جاتا ہے
جبکہ کراچی پورٹ پر یومیہ اربوں روپے کا ٹیکس چوری ہوتا ہے وہ کسی کو نظر نہیں آتا ہے انہوں نے کہا کہ عوام سے ووٹ کا حق چھین کر اسٹبلشمنٹ نے اپنی حکومت قائم کی جس نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا افغان مہاجرین سے ظلم وزیادتی کی جارہی ہے 40 سال پہلے اس وقت کے حکمرانوں نے خود پناہ دی اور ان کے نام پر اربوں ڈالر وصول کیے اور آج ان سے ظلم وزیادتی اور ہتک آمیز رویہ قابل مذمت ہے۔