کوئٹہ : امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہاکہ وفاقی حکومت حقوق بلوچستان اسلام آباد لانگ مارچ سے کیے گیے اپنے وعدوں پرعمل پوراکریں۔وفاقی حکومت کالانگ مارچ کمیٹی کونوٹیفائی نہ کرنے پرافسوس ہے جماعت اسلامی بلوچستان کے حقوق کیلئے جمہوری مذاحمت جاری رکھے گی۔
جماعت اسلامی کے مرکزی اجتماع لاہور 21،22،23نومبرمیں بھرپورشرکت کریں گے۔وفاقی حکومت بلوچستان کے ایران افغانستان کیساتھ بارڈرقانونی تجارت کیلئے فوری کھولے بارڈرزبندش سے لاکھوں لوگ متاثرہیں۔لاپتہ افراد کوفوری طورپربازیاب کریں طاقت کے استعمال گریزمزاکرات کاراستہ اختیار کیاجائے۔چیک پوسٹوں پرعوام کی تذلیل بھتہ خوری بند کی جائے۔افغانستان پاکستان تنازعہ ملک کے مفادمیں نہیں مذاکرات ہی مسائل کاحل ہے۔
ہمسائیہ ممالک افغانستان ایران سے تعلقات خراب نہ کیاجائے۔ تعلقات کی بہتری کیلئے حکومت پاکستان افغانستان حکومت فوری تسلیم کیاجائے۔
مہاجرین بالخصوص خواتین،بزرگ ضعیف افرادکی تزلیل بے عزتی وزبردستی بے دخلی سے گریزکیاجائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدرسہ دارالرشادچمن پھاٹک کوئٹہ میں جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبہ بھرکے صوبائی،اضلاع، برادرتنظیمات ذمہ داران کے ایک روزہ اہم جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
آل بلوچستان جائزہ اجلاس میں صوبائی واضلاع اوربرادرتنظیمات کے ذمہ داران نے شرکت کی اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضی خان کاکڑ نے صوبائی اورامرائے اضلاع وبرادرتنظیمات کے ذمہ داران نے تنظیمی رپورٹ پیش کیے۔
اس موقع تنظیمی،ملکی،علاقائی صورتحال پارلیمانی کارکردگی،اسلام آباد لانگ مارچ میں حکومت کے وعدوں وآئندہ لائحہ عمل،کل پاکستان اجتماع عام 21،22،23نومبر تیاری کے حوالے سے مشاورت واہم فیصلے کیے گئے۔
آل بلوچستان ذمہ داران اجلاس میں ذمہ داران نے بلوچستان میں جاری بدامنی،طاقت کے استعمال،بے روزگاری بارڈربندش،جبری گمشدگیوں، سرحدی وساحلی صورتحال کاجائزہ عوامی اجتماعی مسائل،مچھیروں، تاجروں،ملازمین،تعلیم وصحت کی صورتحال کاجائزہ لیااورحل کے حوالے تجاویزپیش کی اجلاس رات گیے تک جاری رہا۔