کوئٹہ : عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا اور مرکزی سیکرٹری ملگری وکیلان سنگین خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ایمل ولی خان کے خلاف بدنیتی پر مبنی بے بنیاد کیس داخل کرایا گیا تھا،
اسے معزز عدالت نے مکمل طور پر خارج کردیا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سچائی اور انصاف ہمیشہ غالب آتا ہے جبکہ جھوٹ، انتقام اور سیاسی عداوت پر مبنی سازشیں زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتیں۔ رہنماں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور ایمل ولی خان کی جدوجہد ہمیشہ عوامی خدمت، جمہوریت کے استحکام، اور محکوم اقوام کے حقوق کے حصول کے لیے رہی ہے، اور انہی اصولوں پر وہ کسی دبا یا انتقامی کارروائی کے باوجود ڈٹے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور باالخصوص ایمل ولی خان کے خلاف مختلف محاذوں پر چند مخصوص قوتیں اور عناصر سرگرمِ عمل ہیں، جو اے این پی کے بڑھتے ہوئے عوامی اثر و رسوخ اور پشتون و بلوچ اقوام میں بڑھتی سیاسی بیداری سے خوفزدہ ہیں۔ ایمل ولی خان نے ایوانوں کے اندر اور عوامی سطح پر جس جرات اور بصیرت کے ساتھ پشتون و بلوچ اقوام کے غصب شدہ حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے، وہ قابلِ فخر اور لائقِ تحسین ہے۔ رہنماں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ فکرِ باچا خان، عدم تشدد کے فلسفے اور جمہوری جدوجہد کی روایت کو عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ برحق انداز میں آگے
بڑھایا ہے اور مستقبل میں بھی اس جدوجہد کو مزید مضبوط بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا۔ بیان کے آخر میں انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے تمام کارکنان، رہنماں اور پشتون و بلوچ اقوام کو اس منصفانہ عدالتی فیصلے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف ایمل ولی خان بلکہ ہر اس شخص کی اخلاقی فتح ہے جو ظلم، ناانصافی اور استحصالی نظام کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہے۔