کوئٹہ : امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ نچلی سطح پر مسائل کے حل کیلئے بلدیاتی انتخابات ضروری،بلدیاتی اداروں کووسائل واختیارات لازمی ہے۔صوبائی حکومت کی جانب سے شہریوں کوبہترسہولیات کی فراہمی کیلئے 300ارب کابی آرٹی کامنصوبہ خوش ائندہے۔
اداروں واسٹبلشمنٹ کاعوام سے غروروتکبروالامنفی رویہ ٹھیک ہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے صوبائی سیکرٹریٹ میں جماعت اسلامی کوئٹہ کے ذمہ داران اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں صوبائی نائب امیر زاہداختربلوچ جماعت اسلامی کوئٹہ کے امیرعبدالنعیم رندجنرل سیکرٹری اعجاز محبوب ودیگرذمہ داران بھی موجود تھے۔اس موقع پرکوئٹہ کے تنظیمی صورتحال، مسائل اوران کے حل،
بلدیاتی انتخابات سمیت دیگرعلاقائی مقامی مسائل کے حوالے سے مشاورت ہوئی۔ذمہ داران نے بتایاکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے شہری قلت آب،گیس،بجلی لوڈشیڈنگ، ٹریفک صفائی ودیگربدترین مسائل کا شکار ہیں صوبائی وقومی اسمبلی میں بھرپور نمائندگی ہونے کے باوجود مسائل میں کمی کے بجائے بروزبروزاضافہ ہورہاہے منتخب نمائندے اقربا پروری غفلت وکوتاہی کے مرتکب ہورہے ہیں گڈگورننس کافقدان ہے
صحت وتعلیم کے ادارے بھی تباہی کاشکار ہیں آبادی بڑھنے کے باوجود نہ ٹرانسپورٹ کی سہولیات دی جارہی ہیں نہ ہی تعلیم وصحت کے اداروں کی بہتری پرتوجہ دی جارہی ہے۔لاکھوں کی آبادی کیلئے صرف8گرین بسیں دی گئی ہیں۔بجلی وگیس کی لوڈشیڈنگ اورٹینکرمافیاکی وجہ سے شہری ذہنی دبا وبیماری کے شکار ہیں۔بلدیاتی الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے بھی مسائل بڑھ رہے ہیں۔تعلیم وعلاج کے حوالے سے پورابلوچستان کارخ کوئٹہ کی جانب ہے
مگریہاں سہولیات کافقدان ہے۔مولاناہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ اسلامی کوئٹہ کی شہریوں عوام تاجروں کے مسائل کے حل کیلئے عملی جدوجہد کریگی۔اسمبلی کے اندروباہرحقوق کے حصول زیادتیوں کے خلاف مسائل کے حل کیلئے آوازاٹھاؤنگا۔