کوئٹہ : بلوچستان کے سیاسی ، سماجی اور غیر سرکاری تنظیموں کے رہنمائوں نے کہا کہ اس وقت سوشل میڈیا کا دور ہے اس کا مثبت طریقے سے استعمال بناکر لوگوں کو حق اور سچ پر مبنی حقائق اور خبرں سے آگاہ کرکے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لئے حکام بالا تک اپنی آواز پہنچائی جاسکتی ہے۔
منفی اور جھوٹ پر مبنی فیک نیوز اور ویڈیوز شیئر کرکے رہنمائوں اور لوگوں کی تضحیک نہیں کرنی چاہئے اس فورم کو سنجیدگی کے ساتھ معاشرتی اصلاح کیلئے بہتر ٹول کے طور پر کیا جاسکتاہے۔
اور سیاسی جماعتیں دیگر حکام بھی اپنے فیس بک پیجز اور یوٹیوب چینلز کا صحیح استعمال بنانے کیلئے اپنے لوگوں کی اصلاح اور پارٹی پیغام کو مثبت انداز میں پہنچائیں۔
ان خیالات کا اظہار انڈویزیول لینڈ کے سیف اللہ کھوسہ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر سابق رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ خان زیرے، سینئر صحافی سلیم شاہد، شہزادہ ذوالفقار ،نیشنل پارٹی کے علی احمد لانگو، بی این پی کے رہنماء جاوید بلوچ، پی ٹی آئی کے امین اللہ کاکڑ ،حیدر خان اچکزئی و دیگرنے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر من گھڑت خبریں اور افواہوں کی روک تھام کیلئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آنے والے دور میں سچ اور پارٹیوں کے موقف اور بلوچستان سمیت ملک کے مسائل کو اجاگر کرکے حل کرنے کی کوششیں کی جائیں اور منفی خبروں کے ذریعے لوگوں کو ذہنی کوفت میں مبتلا اور حقائق کے برعکس ویڈیوز یا خبریں بناکر کردار کشی نہ کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں تمام چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کیلئے ایکٹ پاس کئے جارہے ہیں میڈیا، سیاست سمیت کوئی بھی آزاد نہیں ہے پیکا ایکٹ کے تحت صحافت کا گلا گھونٹ کر حق اور سچ کو آگے آنے سے روکا جارہا ہے حکومتی سطح پر دھونس دھمکی اور بعض سوشل میڈیا چینلز کے ذریعے سیاسی پارٹیوں کے رہنمائوں اور قائدین کی کردار کشی کی جاتی ہے
لوگوں کے حقوق سلب کرکے انہیں اپنے حق پر بات کرنے سے روکا جاتا ہے آزادی دینے کی بجائے تمام چیزیں اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کرنا بھی جمہوریت اور صحافت پر قدغن ہے۔ تمام جماعتوں، صحافتی حلقوںکو چاہئے کہ چیزوں کا جائزہ لیکر تصدیق اور حقیقت پر مبنی اور اخلاقیات کے دائرہ کار میں کر تنقید اور اپنی آواز کو مثبت انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہر شخص کی عزت نفس ہوتی ہے اپنی ذاتی عناد اور بغض کے ذریعے کسی کی کردار کشی کرنا باعث افسوس اور اخلاقیات کے منافی ہے ۔