کوئٹہ : امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بارڈربندش،جبری گمشدگیاں،حقوق کی عدم فراہمی،عوام کے ووٹ واعتمادکے بجائے زبردستی مسلط شدہ جعلی نمائندے اصل مسائل ہیں۔
وفاق حق دوبلوچستان لانگ مارچ سے کیے گیے وعدے پوراکریں۔
بلدیاتی انتخابات سے نچلی سطح پر مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفودسے ملاقات اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیاوفاقی حکومت، اسلام آباد کے طاقتورطبقات بلوچستان کے سلگتے اجتماعی مسائل کے حل پرتوجہ دیں بلوچستان کے عوام امن،ترقی،روزگار،تجارت کیلئے ترس رہے ہیں
علاج،تعلیم،ترقی،روزگار،کاروبارسمیت سفرکی سہولیات کافقدان ہے،
بلوچستان کے عوام کیلئے چیک پوسٹیں، تھانے،فوجی آپریشنز ہیں۔امن و امان پر پہلے بھی ان کیمرہ سیشن ہواہے بدقسمتی سیاس ان کیمرہ سیشن کی کسی ایک تجویز پر عمل نہیں ہوا۔ہمیں تشیخص کرنی ہوگی کہ مرض کہاں پر ہے۔بلوچستان میں لا ہے اور نہ آرڈر ہے،سیکورٹی اورلا والے ادارے پٹرول،ٹماٹر کی گاڑیاں پکڑتے نظر آتے ہیں۔عجیب تماشا ہیہندوستان کا سرحد پنجاب سے ملتا ہے
بدامنی بلوچستان میں ہیپنجگور میں موٹرسائیکل پرہرمہینہ بیس بیس لوگوں کو مارے جاتے ہیں یہ کیوں نہیں پکڑے جاتے، یہ کہاں چھپ جاتے ہیں کس بارڈر سے دہشت گرد آتے ہیں اب توسارے بارڈرزبند ہیں ہم کسی دہشت گرد سے نہیں ڈرتے حقائق پر بات کرنی چاہئیکیا بلوچستان کے نوجوان پاکستانی نہیں ہے۔
بڑے دھماکے قتل وغارت کے باوجود کوئی ایک آفیسر معطل نہیں ہوتا، 80ارب لینے والوں کو معطل اوربلوچستان بدر ہوناچاہئے۔ بیروزگاری غربت برداشت کررہے ہیں مگر کوئی محفوظ نہیں چیک پوسٹوں ہم سب بے عزت ہوتے ہیں پھر بھی امن نہیں میں بطور ایم پی اے بھی چیک پوسٹوں پر بے عزت ہوتا ہوں بلوچستان میں سرکاری اور غیر سرکاری دہشت گرد موجود ہیں بلوچستان میں امن و امان سالانہ اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن نہ امن ہے اورنہ امان۔
میں کس سے سوال کروں، ولید کے قتل کا کس کو ذمہ دار قرار دوں ہم سب صرف مذمت کرتے ہیں یہی کام اچھا کرتے ہیں آئی جی پولیس بھی مذمت کرتا ہے جس کے کام تحفظ دینا ہے،پہلے بھی اسمبلی میں تقریر کرنے پر گوادر میں مجھ پر مقدمہ ہوااسمبلی میں تقریر پر کوئی ایف آئی آر ہوتا ہے؟حقائق پر بات نہیں کرسکتے کیا یہ ملک میرا نہیں ہے، جماعت اسلامی ولید کی طرح ایف سی اور فوج کے جوانوں کے قتل کی بھی مذمت کرتی ہے۔