کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام ضلع پشین کے زیراہتمام ضلع برشور میں استحکامِ جمعیت کانفرنس نہایت شاندار اور تاریخی انداز میں منعقد ہوئی، جس میں عوام کا ایک جمِ غفیر شریک ہوا۔
یہ اجتماع اپنی نوعیت کا بیمثال مظاہرہ تھا۔ اس عظیم الشان کانفرنس کے مہمانِ خصوصی صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع تھے، جن کے ہمراہ صوبائی مجلسِ عاملہ کے اراکین، ارکانِ اسمبلی، قبائلی عمائدین، سیاسی رہنما اور مختلف مکاتبِ فکر کے معززین شریک ہوئے۔
صوبائی امیر کے استقبال کے لیے پشین اور برشور کے گلی کوچوں میں عوام کی جم غفیر موجود تھے ۔
انصار الاسلام کے چاک و چوبند دستوں نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے، جب کہ قافلے کی آمد پر کارکنان نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے اپنے صوبائی امیر کا والہانہ استقبال کیا۔
بعد ازاں صوبائی امیر کا قافلہ سیکڑوں گاڑیوں کے جلوس کے ہمراہ جلسہ گاہ پہنچا، جہاں فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی اور ہر سمت جوش و جذبے کا عالم طاری ہوگیا۔
اپنے پرمغز اور مدلل خطاب میں مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام اس صوبے کی حقیقی ترجمان، عوامی نبض اور دینی اساس رکھنے والی واحد سیاسی قوت ہے، جس نے ہر دور میں عوامی مفادات کے تحفظ، امن و استحکام، اور وسائل کے دفاع میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج صوبے کا نوے فیصد علاقہ نوگو ایریاز میں تبدیل ہوچکا ہے، امن و امان کی صورتحال تباہ حالی کی تصویر پیش کر رہی ہے، اور اس کے باوجود حکومت کی بیحسی کا یہ عالم ہے کہ وہ انتظامی معاملات میں ناکام تجربات دہرانے میں مصروف ہے۔
لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ دراصل ماضی کی ناکام پالیسیوں کا اعادہ ہے، جو صوبے کے حالات کو مزید ابتری کی جانب دھکیل دے گا۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ حکومتی اراکین عوامی خدمت کے بجائے اقتدار کی کرسی کے حصول کے لیے رسہ کشی میں مصروف ہیں،
جس کے باعث صوبے کے مسائل دن بہ دن سنگین تر ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشین کے عوام اس لحاظ سے خوش نصیب ہیں کہ ان کے نمائندے کی فہم و بصیرت کے بغیر ملکی سیاست کا کوئی باب مکمل نہیں ہوتا۔ یہ خطہ جمعیت کا ناقابلِ تسخیر قلعہ ہے، جو ماضی میں بھی قائم تھا، آج بھی مضبوط ہے، اور مستقبل میں بھی استقامت کی علامت بن کر رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا کمال الدین کی نشست پر دن دہاڑے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، جو نہ صرف اس حلقے بلکہ پورے صوبے کے ساتھ زیادتی تھی۔ اسی طرح مختلف حلقوں میں شب خون مار کر جمعیت کو اقتدار سے دور رکھا گیا، جس کا نقصان آج صوبے کے عوام بھگت رہے ہیں۔مولانا عبدالواسع نے واضح الفاظ میں کہا کہ جمعیت علمائے اسلام اپنے اصولی مقف، نظریاتی بنیادوں اور اکابرین کی امانت سے کسی قیمت پر انحراف نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اس پرفتن دور میں وقتی نعروں، مصنوعی تبدیلیوں اور جھوٹے وعدوں کے جال میں پھنسا ہوا معاشرہ صرف جمعیت کے پلیٹ فارم سے ہی رہنمائی حاصل کرسکتا ہے۔مزید برآں، انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے ہمیشہ این ایف سی ایوارڈ، ریکوڈک، سیندک اور دیگر صوبائی وسائل کے تحفظ کے لیے نمایاں اور مثر کردار ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جماعت صوبے کے قدرتی وسائل پر کسی بھی غاصبانہ ناانصافی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی، کیونکہ جے یو آئی اس مٹی، اس دھرتی اور اس کے عوام کی محافظ جماعت ہے۔انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم باہمی اتحاد اور تنظیمی نظم و ضبط کے ذریعے اپنی صفوں کو مزید مستحکم کریں، کیونکہ یہی یکجہتی جمعیت کی اصل طاقت اور کامیابی کی ضمانت ہے۔مولانا عبدالواسع نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں اور باطل قوتوں کے خلاف جمہوری و آئینی جدوجہد کو تیز کریں۔
اس موقع پر مولانا کمال الدین (ضلع امیر جے یو آئی پشین)، مولانا محمد آغا، مولانا حافظ حسین احمد شرودی، مولانا نذر محمد حقانی، حاجی نواز خان کاکڑ، حاجی زابد ریکی، ملک عبدالقیوم کاکڑ، حاجی غوث اللہ اچکزئی، ملک باز محمد کاکڑ، حاجی واحد آغا اور حاجی شکور آغا سمیت دیگر رہنماں نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ جمعیت علمائے اسلام محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک تحریک اور ایک عزم و استقامت کا استعارہ ہے، جس نے ہمیشہ مظلوموں کی آواز بن کر ظالم قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کا کردار ادا کیا ہے۔