بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ چند برسوں کے دوران پوست کی کاشت میں خاصہ اضافہ ہوا ہے، زمیندار بڑے پیمانے پر منافع کمانے کیلئے اس گھناؤنے کاروبار میں سرگرم ہیں۔
جب سے افغانستان میں پوست کی کاشت پر پابندی عائد کی گئی ہے افغانستان سے تعلق رکھنے والے پوست کے کاروبار سے جڑے لوگ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں زمینداروں کے ساتھ ملکر یہ کاروبار کررہے ہیں۔
ماضی میں افغانستان پوست کی کاشت کا مرکز تھا اب پابندی کی وجہ سے بلوچستان میں خفیہ طور پر پوست کی کاشت کی جارہی ہے ۔
بلوچستان حکومت کی جانب سے پوست کی غیر قانونی کاشت کاری کے خلاف سختی سے کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
بلوچستان کے ضلع دْکی میں پوست کی غیرقانونی کاشت کے خلاف ضلعی انتظامیہ اور محکمہ داخلہ بلوچستان نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 75 زمینداروں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کر دئیے ہیں ۔
محکمہ داخلہ کے مطابق زمینداروں کے نام ڈپٹی کمشنر دْکی کی سفارش پر فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے۔
اس اقدام کا مقصد پوست کی کاشت کی روک تھام اور انسدادِ منشیات کے قوانین پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان نے وضاحت کی ہے کہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمی یا تنظیم میں ملوث نہ ہونے کی ضمانت دیں گے۔
یہ ضمانت 5 لاکھ روپے کے سیکیورٹی بانڈ کی صورت میں جمع کرائی جائے گی، جسے ڈپٹی کمشنر یا ڈی پی او کی ویری فکیشن کے بعد قبول کیا جائے گا جب تک کسی زمیندار کا نام فورتھ شیڈول میں شامل رہے گا، اس کی تمام جائیدادیں ضبط تصور کی جائیں گی اور اثاثوں کی جانچ پڑتال کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ذریعے کی جائے گی۔
فورتھ شیڈول میں شامل زمینداروں کو اپنی سفری تفصیلات اور رہائشی ٹھکانوں۔
کے بارے میں لیویز اور مقامی پولیس کو پیشگی اطلاع دینا اور اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
زمیندار فورتھ شیڈول میں نام شامل کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست بھی دے سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔
یہ کارروائی بلوچستان میں منشیات کی کاشت کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کے سلسلے میں ایک اہم پیشرفت تصور کی جا رہی ہے۔
بلوچستان حکومت پوست کی کاشت روکنے پر سختی سے عمل پیرا ہے اس سے مستقبل میں پوست کی کاشت میں واضح کمی آئے گی۔
بلوچستان حکومت کی جانب سے پوست کی کاشت کے بڑھتے رجحان کے خلاف سخت ایکشن لیا جارہا ہے، ساتھ ہی پوست کی فصلوں کو تباہ کیا جا رہا ہے بلکہ اس ضمن میں قانون سازی بھی زیر غور ہے جس کے تحت ایسے افراد کی زمینیں بحق سرکار ضبط کر لی جائیں گی جو پوست کی کاشت کے لیے زمینیں فراہم کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ پوست سے پاک سٹیٹس برقرار رکھا جائے گا اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قربانی دینی پڑے۔
بلوچستان کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے پوست کی کاشتکاری میں ملوث زمینداروں، افغان ڈیلرز کے خلاف مزید کارروائیوں کی ضرورت ہے تاکہ بلوچستان میں پوست کی کاشت کے بڑھتے رجحان پر قابوپایاجاسکے۔