کوئٹہ : گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹی کی سطح پر مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے وقت، موجودہ ضروریات کے ساتھ مستقبل کی متوقع تقاضوں کو ہم آہنگ کیا کریں۔
یہ فعال اسٹریٹجی اداروں کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ بدلتے ہوئے مطالبات کیلئے موافقت پذیر اور جوابدہ رہیں۔
بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز نے ایک پرجوش ترقی کے سفر کا آغاز کیا ہے، جو دیرپا اثر ڈالنے کیلئے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ میڈیکل یونیورسٹی آنے والے برسوں کے اندر قومی تعلیمی منظرنامے میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھرے گی، علم کو آگے بڑھائے گی اور طبی اور صحت کے علوم میں باصلاحیت پیشہ ور افراد کی پرورش کریگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے دن گورنر ہاس کوئٹہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا.
مذکورہ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد لہڑی بریفنگ دے رہے تھے. بریفنگ کے دوران پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان کلیم اللہ بابر بھی موجود تھے. اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز میں نرسنگ، میڈیکل لیبارٹری، ڈینٹل اور سرجری سمیت بارہ مختلف ڈسپلنز میں ہزاروں امیدواروں سے داخلہ ٹیسٹ لے تھے.
آج وہ منتخب امیدوار زیر تعلیم ہیں. یہ حقیقت ہے کہ میڈیکل کے پروفیشنل کورسز کرانے والے ہنریافتہ افراد کی ضرورت ملک و صوبے سے باہر بھی زیادہ ہوتی ہے. گورنر بلوچستان نے کثیر الجہتی نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد لہڑی اور ان کی ٹیم پر زور دیا کہ وہ میڈیکل کورس پڑھانے اور جدید تحقیق کے کلچر کو فروغ دینے کے درمیان توازن قائم کریں۔ دونوں پہلوں کو ترجیح دیکر یونیورسٹی اپنی مجموعی رینکینگ میں اضافہ کر سکتی ہے۔