|

وقتِ اشاعت :   October 25 – 2025

اسلام آباد :  ہمارے حکمران فرعونوں کے مقابلے میں بڑے کمزور لوگ ہیں لیکن اتنے متکبر ہیں ان کے منہ کو خون لگ چکا ہے، یہ اپنی اس غلط سیاست سے جمہور کا گلا گھونٹنے ،حق کی آواز کو دبانے کے لیے اس حد تک چلے گئے ہیں کہ انہو ں نے ہمارے ملک کو توڑا اور آج تک اس بات پر پابندی ہے کوئی بھی یہ بات نہیں پوچھے گا کہ یہ ملک کیوں توڑا ۔

سندھی ، بلوچ، پنجابی ، پشتونوں کو دفعہ 144میں مارا گیا ، کہتے ہیں شہید کی جوموت ہے وہ قوم کی حیات ہے ، قرآن کریم میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ آپ شہید کو مردہ نہ کہیں ۔

میرے والد عبدالصمد خان اچکزئی بھی ایک صحافی تھے میں بھی ایک شہید صحافی کا بیٹا ہوں ۔

ہمارے درمیان یہ قدر مشترک ہے ۔

آئین کی بالادستی ، جمہور کی حکمرانی ،پارلیمنٹ کی خودمختاری اور فوج وتمام جاسوسی اداروں کی سیاست میں مداخلت پر پابندی کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں سے بات ہوسکتی ہے بلکہ ان سب کو ان تین چار نقطوں پر اکٹھا ہونا ہوگا۔ پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوں گی ، تمام پالیسیاں اس پارلیمنٹ کے اندر بنیں گی۔

جاسوسی اداروں اور فوج کی سیاست میں مداخلت نہیں ہوگی ۔

آرمی چیف پرسوں کیڈٹس سے حلف لے رہے تھے ٹی وی پر آیا ۔ جو ہمارے آئین میں درج حلف ہے کہ میں آئین کی پاسداری کرونگا۔قانون کا احترام کرونگا اور سیاست میں حصہ نہیں لونگا۔ کیا اس طرح کے مذاق سے ہم پاکستان کو چلائینگے ؟یہ ہمارے لیئے قابل قبول نہیں ۔ ہم پاکستان کے وہ لوگ ہیں کہ ہمیں ہے حکم اذاں لا الا اللہ ۔ ہم نے اُٹھنا ہے ۔

ایک راستہ یہ ہے کہ نوازشریف صاحب، مولانا فضل الرحمن ، پیپلز پارٹی ، جمعیت علماء اسلام پاکستان کی ساری پارٹیاں مل بیٹھ کے چند نقاط پر متفق ہوں۔

ان خیالات کا اظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمودخان اچکزئی نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں صحافی ارشد شریف کی یوم شہادت کے موقع پر صحافی برادری کی جانب سے منعقد کیئے گئے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عبدالصمد خان اچکزئی میرے والد تھے نہ انہوں نے کسی سیاست دان کو دیکھا نہ وہ کسی ایسے آدمی سے ملے تھے جو سیاستدان تھا ۔ گھر میں انہوں نے کتابیں پڑھی تھیں ۔

انہوں نے اپنے قدرتی شعور سے یہ بات اخد کی کہ ہمارے وطن کی جتنی بھی کمزوریاں ہیں یہ خارجی حکمرانی کے نتیجے میں ہیں ۔ محمود خان اچکزئی خان عبدالصمد خان اچکزئی نے اپنی سیاست کا آغاز اپنے گائوں کے مسجد سے کیا اور وہ لکھتے ہیں کہ جب مجھے انگریزی استعمار کے مظالم اور جاسوسی نظام کا طریقہ دیکھا تو میںنے فیصلہ کیا کہ ہم نے بندوق کی سیاست نہیں کرنی ۔

امن کی سیاست کرنی ہے جدوجہد شروع کرنی ہے ۔ خان شہید اُس وقت نہ گاندھی جی سے ملے تھے نہ باچا خان سے ملے تھے ۔ انہوں نے اپنے تین چار ساتھیوں کے ساتھ عدم تشدد کی سیاست کا آغاز کیا اور خان شہید اگر چہ ذہین ہونہار طالب علم تھے لیکن انہوں نے یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ میں نے اس حکومت کی نوکری نہیں کرنی ۔ خان شہید کسی بھی یونیورسٹی میں نہیں گئے تھے لیکن بیک وقت سات زبانوں پر عبور حاصل تھی جب اُنہیں گرفتار کیا گیا تو اُن کی عمر 22سال تھی ۔

بائیس سال میں بغیر لیڈر کے انہوں نے اپنی تحریک شروع کی اور 1973تک جاری رکھی اور بالاآخر 2دسمبر 1973کو ان کے گھر پر دو بموں سے حملہ کرکے انہیں شہید کیا گیا۔ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے بلوچستان میں پہلا چھاپ خانہ 1938ء میں قائم کیا اور پہلا ہفت روزہ اخبار ( استقلال ) یعنی آزادی کا اجراء انہوں نے کوئٹہ برٹش بلوچستان میںکیا۔ اس لحاظ سے ارشد شریف شہید کی بیوہ یہاں بیٹھی ہوئی ہیں ان کے خاندان اور میرے قدر مشترکہ لگتے ہیں ۔

آپ کا شوہر شہید ہوا صحافی کے حیثیت سے اور میرے والد صحافی کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنماء بھی تھے۔

حق وباطل کی جنگ اُس وقت شروع ہوئی جب پہلے انسان نے NOکہا ۔ طاقت کے سامنے انکار کیا اور قرآن کریم میں ہے کہ حق وباطل کی لڑائی جاری رہیگی اور بالاآخر حق جیتے گااور باطل ہارے گا۔ دنیا کے جتنے بھی پیغمبر ایک لاکھ چوبیس ہزار کم وبیش اگر چہ اُن کے پیغامات کسی قبیلے ،کسی علاقے یا اقوام کے لیے تھے لیکن اُن سب میں مشترک تھی کہ وہ سب ظالم حکمرانوں کے سامنے کھڑے ہوئے ۔ اور ظالم حکمران ایسے بھی نہیں جو یہ ہمارے والے ہیں وہ نمرود ، فرعون اور بڑی بڑی بلائوں کے خلاف کھڑے ہوئے ۔ حق گوئی وبیباکی کی جنگ شروع ہوئی اور پھر ہم سپاہیوں کے لیے حکم ہے ہم نے حق گوئی کرنی ہے نتائج کی پرواہ نہیں کرنی ۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زاء انبیاء کرام میں سے ہزاروں کو قتل کیا گیا ۔

جب ہم حق گوئی وبے باکی کی جنگ لڑتے ہیں اور ایک بھیڑیئے کی منہ سے کچھ چھیننا چاہتے ہیں تو وہ آسان کام نہیں ہے اس کے لیے ہمیں صبر استقامت اچھے اعمال دکھانی ہوں گی اور حق کی بات میں بھی تکالیف کا آپ سامنا کروگے اس کا نام صبر ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے کہ گویا ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہماری نہ فوج سے نہ جاسوسی اداروں سے نہ شہباز شریف بھائی سے کوئی دشمنی ہے ۔ ہمارا کہنا ہے کہ پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے ، یہ اپنی مرضی سے قائم ہوئے قوموں کی اپنی مرضی سے اس میں شامل ہونے والی ریاست ہے ۔

اس کی آئین ایک معاہدہ ہوگا سوشل کنٹریکٹ۔ یہ معاہدہ تھا پنجاب اور بنگال کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے ۔ ہم نے 25سے 30سال ملک کو چلنے نہیں دیا اور نہ ہی آئین بننے دیا۔ اور پھر جب بنا بڑی مشکلوں کے بعد ابھی جو تماشے یہ کررہے ہیں ابھی شہباز ماموں کی حکومت جب سے آئی ہے اُس نے ہمارے تمام وہ جمہوری حقوق جو اس بڑے عرصے میں ہم نے پاکستان ٹوٹنے کے بعد حاصل کیئے تھے اُن پر پانی پھیر دیا ۔ بس ایک فرد کی بات فائنل ہوگی ۔ نہیں ایسا نہیں چلے گا نہ ایسا ہونے دینگے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پنجابی میں کہتے ہیں بندہ بن ۔ اگر بندہ بن کر بیٹھے ہیں ہمارے ساتھ ہمارے کوئی باپ ،دادا کا ایجنڈا نہیں ہے ۔

آئین کی بالادستی ہوگی ، ایک ایسا الیکشن کمیشن جو ایمانداری سے الیکشن کرائے جو پارٹی جیتی اُس کی حکمرانی ہوگی ، پاکستان کی پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوں گی ، تمام پالیسیاں اس پارلیمنٹ کے اندر بنیں گی۔ جاسوسی اداروں اور فوج کی سیاست میں مداخلت نہیں ہوگی ۔ آرمی چیف پرسوں کیڈٹس سے حلف لے رہے تھے ٹی وی پر آیا ۔ جو ہمارے آئین میں درج حلف ہے کہ میں آئین کی پاسداری کرونگا۔قانون کا احترام کرونگا اور سیاست میں حصہ نہیں لونگا۔ کیا اس طرح کے مذاق سے ہم پاکستان کو چلائینگے ؟یہ ہمارے لیئے قابل قبول نہیں ۔ ہم پاکستان کے وہ لوگ ہیں کہ ہمیں ہے حکم اذاں لا الا اللہ ۔

ہم نے اُٹھنا ہے ۔ ایک راستہ یہ ہے کہ نوازشریف صاحب، مولانا فضل الرحمن ، پیپلز پارٹی ، جمعیت علماء اسلام پاکستان کی ساری پارٹیاں مل بیٹھ کے چند نقاط پر متفق ہوں۔ رسول پاک ﷺ کے دور میں عیسائی وفد مدینہ منورہ ان کے پاس آیا تھا ۔ دو تین کے مذاکرات کے بعد انہوں نے مشترکہ نقطوں پر اتفاق کیا۔ میں شہباز شریف بھائی سے کہتا ہوں کہ آئین بالادست ہوگا، ہر ادارہ اپنے فریم میں رہیگا۔

یہ پیکا ایکٹ ، یہ 26ویں آئینی ترمیم یہ نہیں چلے گا۔ یہاں بات ہوئی کہ اگر کسی صحافی کو مارا گیا ۔

نہیں اگر کسی ایک پاکستانی کومارا گیا چاہے مسلمان نہ ہو ہم سب کو اُس کے خلاف اُٹھنا ہوگا ورنہ خدانخواستہ ہمارا ملک ایک بہت بڑے حادثے سے دوچار ہوگا۔ خیبر سے لیکر بلوچستان کے ساحلوں تک ہر جگہ اپنے بچے اور اپنی فوج آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ ہم توبہ کریں سب پاکستان کو جمہوری ریاست بنائیں۔ باقی پارٹیاں متفق ہوں