کوئٹہ : کوئٹہ پریس کلب (رجسٹرڈ)نے خبریاتی ادارے رفتار سے وابستہ سینئر صحافی فرحان ملک کے خلاف بلوچستان کے علاقے حب میں متنازع پیکا ایکٹ کے تحت درج کی جانے والی ایف آئی آر کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ممتاز سنیئر صحافی کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کو فوری طور پر واپس لیا
جائے پریس کلب کی جانب سے جاری کردہ بیاں میں صدر کوئٹہ پریس کلب عرفان سعید جنرل سیکرٹری ایوب ترین اور دیکر کابینہ ارکان نے کراچی کے صحافی کے خلاف قواعدو ضوابط کی سنگین خلاف ورزی پر مطلقہ تھانے میں درج ہونے والی ایف آئی آر کو آزادی اظہار رائے پر حملہ قرار دیا ہے۔
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیاکہ خبریاتی ادارے رفتار نے گزشتہ ماہ 19 ستمبرکو کراچی میں زمینوں پر قبضے کے بحران پر ایک خصوصی ڈاکومنٹری نشر کی تھی جس میں متعلقہ متاثرین ، بلڈرز ، صحافیوں اور دیگر فریقین کے موقف کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ اس ڈاکومنٹری کو بنیاد بنا کرفرحان ملک کے خلاف متلعقہ حلقے کے ایم پی اے کے ایماپر حب کے مقامی تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے
جو کہ نہ صرف ایک انتقامی کارروائی کا تسلسل ہے بلکہ اس طرح کے اقدامات نے طاقت کے بے جا استعمال کو بھی اشکار کیا ہے۔ بیان میں کہا ہے کہ فرحان ملک کے خلاف انتقامی کارروائی صحافت کو دبانے کی ایک کوشش کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے
جس کا معتقلہ حکام کو سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تحیقیقاتی ڈاکومنٹری میں جن بڑے کرداروں کا ذکر کیا گیا ہے ان کا موقف بھی صحافتی اصولوں کے مطابق ڈاکومنٹری میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہاں سے اس ضمن میں جواب دینے سے گریز کیا گیا تھا۔
عوام تک سچ کی رسائی روکنے کے لیے پیکا ایکٹ کو استعمال کرکے حقائق مسخ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جس پر بلوچستان کے صحافی اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔