|

وقتِ اشاعت :   October 28 – 2025

کوئٹہ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے صوبے میں پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے تمام وائس چانسلرز کو خصوصی ہدایات جاری کیں کہ وہ اپنی اپنی یونیورسٹی کی رینکنگ کو بہتر بنانے اور اسکورنگ 60 فیصد سے زیادہ بڑھانے کیلئے ٹھوس عملی اقدامات اٹھائیں

جن کے نتیجے میں ہمارے تمام اعلی تعلیمی اداروں کے نہ صرف وقار میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی اعلی تعلیمی ساکھ مضبوط ہوگی۔ ہمیں یونیورسٹیوں کو اپنے معیارات اور بینچ مارکس کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔

گورنر مندوخیل نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے، یونیورسٹی کی رینکینگ بڑھانے اور سکورنگ کو مقرر کردہ ساٹھ فیصد کے ہدف سے آگے لے جانے کیلئے وائس چانسلرز ہی جوابدہ ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز گورنرہاوس کوئٹہ بیوٹمز یونیورسٹی 13 ویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنربلوچستان کلیم اللہ بابر، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، پرووائس چانسلر ڈاکٹر میروائس کاسی، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا نمایندہ انجینئر محمد رضا چوہان اور فنانس ڈیپارٹمنٹ ایڈیشنل سیکرٹری عارف اچکزئی سمیت سینیٹ کے ممبران موجود تھے.

بیوٹمز یونیورسٹی کے سینیٹ ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا کہ زیر تعلیم طلبا و طالبات کے روشن مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے بھرپور اقدامات کریں. وائس چانسلر کی ذمہ داری ہے

کہ وہ ٹیچنگ سٹاف کی حاضری کو یقینی بنانے پر بھی توجہ مرکوز رکھیں. گورنر مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹی کی سطح پر مالی امور و معاملات میں شفافیت برقرار رکھنے کیلئے تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی ضروری ہے. بیوٹمز یونیورسٹی کے 13ویں اجلاس کے شرکا کی سفارشات اور تجاویز کی روشنی میں کئی نئے اہم فیصلے کیے گئے۔