کوئٹہ: پشتونخوامی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے اورسیزپاکستانیوں سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 25کرورڑ انسانوں کا ملک ہے یہاں نہ کوئی کسی کا آقا نہ کوئی غلام ہے ،
یہ ایک رضاکارانہ کثیر القومی ، کثیر اللسانی فیڈریشن ہے اس میں تمام لوگ سینکڑوں یا ہزاروں سالوں سے اپنے اپنے تاریخی مادر وطن پر آباد ہیں ، پاکستان14اگست 1947کو بنا تھا بدقسمتی سے ہم اس ملک کو آئین دینے میں ناکام رہے ، 1935ء کے آئین سے پہلے انڈیا کا ہمارا ٓئین تھا ،
بنگال کی آباد کو کنٹرول کرنے کے لیے ہمارے پنجا ب کے دوستوں نے جس میں فوجی ، سول ، جوڈیشری اور سب شامل تھے اس پر عملد کو روکے رکھا ۔ جس میں ہم یہاں تک گئے
کہ جب پہلے انتخابات ہوئے ون مین ون ووٹ وہ بھی جو کسی جرنیل نے کرائے ہم نے ان کے نتائج ماننے سے انکار کیا نتیجہ میں 1971میں ہمارا ملک ٹوٹا ہم سب کو پتہ ہے کہ ہمارا ملک کیوں ٹوٹا۔ یہ ایکسویں صدی ہے لوگ باہمی رضامندی سے ملک چلاتے ہیں اور اس کے لیے ایک سماجی معاہدہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ آئین صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتا ۔پاکستان دولخت ہونے کے بعد بڑی مشکلوں سے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میںاگر چہ ان کی حکومت سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ایک مہربانی اس اسمبلی نے یہ کردیا کہ جس میں بہت بڑے پاکستانی ، دانشور ، علماء کرام بڑے اُستاد ، ذوالفقار علی بھٹو ، خان عبدالولی خان ، مفتی محمود صاحب، شاہ احمد نورانی ، پروفیسر غفور انہوں نے ہمیں ایک آئین دیا ۔
اُس آئین کا بھی ہم نے حلیہ بھگاڑا ہے۔ جس نہج پر ہمارا ملک پہنچ چکا ہے ہماری اپنی بدکاریوں کی وجہ سے ملک کثیر الجہتی بحرانوں میں مبتلا ہے ۔ اس کا واحد علاج یہ ہے کہ ہم سب فوجیوں سمیت سب مل بیٹھ کر شریف لوگوں کی طرح ایک دوسرے کو معاف کریں اور جو غلطیاں ہوئی ہیں اس پر توبہ کرکے اس کثیر الجہتی بحران سے ملک کونکال لیں اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم 1973کے آئین اگر چہ اس آئین سے بھی بعض باتوں میں اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن یہ ہمارا ایک متفقہ سوشل کنٹریکٹ ،ایک متفقہ آئین تھا۔
26ویں آئینی ترمیم اس میں مولانا فضل الرحمن صاحب کا خیا ل ہے کہ اس میں شاید کچھ مذہبی جو نقطے ہیں اس کو نہ چھیڑا جائے ۔ سوائے اٹھارویں ترمیم کے باقی تمام ترامیم جو ہوئی ہیںختم کرنے چاہیے۔
پھر اس 1973کے آئین کے تحت ہم مل بیٹھ کر اس ملک کو چلائیں۔ ہمارا نہ فوج سے نہ سول یا ملٹری ایجنسیوں سے جھگڑا ہے ۔ آئین کا حکم ہے کہ ہر ادارے اپنے آئینی فریم کے اندر رہ کر کام کرے کوئی ایسا نہیں چاہتا کہ اس ملک میں فوج یا انٹیلی جنس ادارے نہ ہو بلکہ ہم کہتے ہیں کہ فوج اور انٹیلی جنس اداروں کا سیاست میں کام نہیں ہوگا ۔ کسی بھی ادارے میں چاہے سول ، ملٹری یا جوڈیشری ہو کسی بھی آدمی کو ایکسٹینشن نہیں دینا چاہیے اور ترقی سنیارٹی پر دینی چاہیے ۔
مزید یہ ملک نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا ہم نے جیو اور جینے دو کی بنیاد پر ہندوستان ، چین ، افغانستان ، ایران کے ساتھ گزارہ کرنا ہوگا۔ افغانستان کے بارے میں ہمارے یار دوستوں نے پروپیگنڈہ شروع کیا ہے ۔
ہماری تجویز ہے کہ اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل پاکستان اور اس کے ہمسایوں کی میٹنگ بلائے ، بیٹھ کر افغانستان کے ہمسائے اور ان سے بات کریں اور ایک دوسرے کو ان کے حدود میں مداخلت نہ کرنے کا گارنٹر بنے ۔ اقوام متحدہ اس کو مانیٹر کرے اور جو گڑ بڑ کرتا ہے اس کو فارغ کرے ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پچھلے دنوں ہمارے آرمی چیف صاحب نے کاکول اکیڈمی میں فوجیوں سے حلف لیا اور حلف وہی لیا جو آئین میں درج ہے کہ ہم آئین کا احترام کرینگے اور ہم سیاست میں حصہ نہیں لینگے اگر کسی کو شوق ہے پارلیمنٹ کا سیاست میں آنا چاہتا ہے تو یہ ادارہ چھوڑ دے آجائیں ہمارے پاس اور یہ کہ آپ یہ کبھی کریں اور وہ بھی کریں تو اس میں بڑی بربادی ہے۔
ایک مارشلاء ایوب خان ، دوسرا یحییٰ خان ، تیسرا ضیاء الحق کا چوتھا مشرف کا اس نے دوہری ذمہ داریوں کی وجہ سے ہماری فوج کو کافی کمزور کیا ۔ ہماری فوج اپنا کام کرے سیاستدان اپنا کام کریں۔ یہ غداری ،مداری والی باتیں چھوڑ دیں ۔ آئین کہتا ہے کہ جو آئین کو چھیڑتا یا پائمال ، معطل کرتا ہے یا نہیں مانتا وہ غداری کا مرتکب اور مجرم ہے ۔ اور آئین ہر اس فرد کو شریک جرم ٹہراتا ہے جو آئین کی پائمالی کرنیوالے کا کسی نہ کسی طرح ساتھ دیتا ہے ۔ ہم نے نہ کسی کو پھانسی چڑھانا ہے نہ کسی کے ساتھ لڑائی لڑنی ہے۔
اگر پاکستان کو کسی نے بحرانوں سے نکالنا تو اس کے دو طریقے ہیں ایک طریقہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ، بلاول صاحب، مولانا فضل الرحمن صاحب ، جماعت اسلامی ، اے این پی ساری پارٹیاں مل بیٹھ کر کم سے ان نقاط پر اتفاق کریں کہ آئین بالادست ہوگا، ایک غیر جانبدارنہ ایماندارنہ الیکشن کمیشن کے ذریعے انتخابات ہوں گے ، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی ، داخلہ وخارجہ پالیساں اس پارلیمنٹ سے بنے گی کوئی بھی آدمی قانون سے بالاتر نہیں ہوگا۔
غریب امیر سب قانون کے سامنے برابر ہونگے تب پاکستان ترقی بھی کریگا آگے بھی بڑھے گا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان سیاسی آدمی ہے وہ بھی اس باتوںپر راضی ہوجائینگے ۔
کچھ مہینوں کے لیے ایک قومی حکومت بنائی جائے جو شفاف الیکشن کرائیں اور پھر جو بھی جیتے وہ پاکستان کا حاکم ہو۔ اور اگر یہ نہیں ہوتا تو پھر دوسرا راستہ یہ ہے کہ پھر عوام نے سڑکوں پر نکلنا ہوگا اور ہم نکلیں گے ہم نہ کسی کو پتھر مارینگے نہ ڈنڈا ماریں گے نہ کسی کی جان لینی ہے لیکن یہ ہمارا حق ہے کہ ہم زندہ آباد ،مردہ باد کہیں۔
کہ ہم ملک کے لیے ایک اچھا نظام چاہیے لیکن جس انداز میں 26نومبر کو جو کچھ ہوا عوا م اپنی بنیادی حقوق کے لیے نکلے تھے کہ ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا ہے اور پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ مینڈیٹ چھین لیا گیا ہے ۔
سپیکر قومی اسمبلی میرا دوست ہے میرے ساتھ رہا ہے اُس کو میں غصے میں حوالدار سپیکر کہتا ہوں وہ اسمبلی میں بیٹھ کے کہتا ہے کہ ہاں جاسوسی اداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ جس آدمی کا بھی ٹیلیفون وہ ریکارڈ کرنا چاہے تو وہ کرسکتے ہیں اس کی موجودگی میں قومی اسمبلی میں وردیوں میں ملبوس کچھ لوگ آئے تین چار یا پانچ ایم این ایز کو گسیٹھ کر لے گئے یہ کیسا سپیکر کیسا پارلیمنٹ ہے ۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ چونکہ ہماری غیر آئینی ، غیر جمہوری ، غیر حقیقی ، غیر قانونی حکومت ہے جب عمر ایوب صاحب ہمارے اپوزیشن لیڈر تھے ان سے درخواست کی تھی کہ اس غیر جمہوری حکومت کے خلاف دنیا کے سفیروں کو بُلائیں ۔ اسلام آباد میں ظہرانے پر ان سے ہم کہہ دینگے کہ آپ لوگ جمہوری دنیا کے لوگ ہیں ایسا تو نہ کریں کہ اپنے لیئے جمہوریت کی بات کریں اور ہمارے ہاں اُن لوگوں کو سپورٹ کریں جن کو آپ بھی جانتے ہیں ہم بھی جانتے ہیں کہ زر اور زور کی بنیاد پر حکومت پر غیر قانونی طریقے سے قابض ہیں اور لوگوں کا مینڈیٹ چھینا گیا ہے ۔
لہٰذا آپ جو بھی معاہدے اس حکومت کے ساتھ کرینگے ہم تحریک تحفظ آئین پاکستان کی پارٹیاں جس میں عمران خان کی پارٹی شامل ہے کہ ہم ان معاہدوں کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ ان تمام معاہدوں کا ہم اس لیے احترام نہیں کرینگے اور نہ ہم اس کے پابند ہوں گے کہ یہ غیر قانونی حکومت ہے ان کا یہ اختیار ہی نہیں کہ یہ کوئی معاہدے کرسکے یہ ہم نے کہہ دیا ۔
میں شہباز اور ان کے دوستوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ بھائی خدا کے لیے ایسے کام نہ کریں۔
تمام لوگوں ، سیاست دانوں ، جرنیلوں ، ججز ، صحافیوں ، سول سوسائٹی ، وکلاء اور زندگی کے ہر شعبے کے لوگوں کی ایک گول میز کانفرنس بُلائیں اور وہ چار دن بیٹھ کر سر جھوڑ کر مستقبل کا لائحہ عمل طیار کریں۔
وسائل سے پُر ملک ہونے کے باوجود ہمارے عوام 45%غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان یہ SOSمیسج ہے جو کچھ بنگلہ دیش ، سری لنکا، نیپال میں ہوا وہی کچھ ہوگا لیکن اگر ہم احتیاط سے جائینگے اور ہم انشاء اللہ سرخرو ہوں گے۔
محمود خا ن اچکزئی نے اوورسیز پاکستانیوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ لوگ بیرونی دنیا میں رہتے ہیں وہاں کی حکومتیں وہاں جمہوریتیں آپ لوگ دیکھ رہے ہیں ۔ ہم آپ سے یہ نہیں کہتے کہ آپ لوگ ہمیں سپورٹ کریں بلکہ آپ جمہوریت کی بات کریں۔ پاکستان مین ون مین ون ووٹ کی بات کریں۔
دنیا کی افواج ہیں آپ سب لوگ جانتے ہیں ہماری فوج سے بھی طاقتور افواج ہیں وہ بھی اپنی حکومتوں سے پردے کے پیچھے ملتے ہوں گے لیکن یہ طریقہ نہیں ہوگا جس طرح ہمارا ہے ۔ یہاں ہر کوئی کہتا ہے کہ پاکستان فرسٹ لیکن اس کے دل میں کچھ اور ہوگا۔
پاکستان فرسٹ اس طرح ہوگا کہ یہاں عدلیہ ، صحافی ، پارلیمنٹ سب آزاد ہوں گے ، نہ ہم نے یہاں کسی کو خلیفہ بننے دینا ہے۔ اگر خدانخواستہ پارلیمنٹ کا کوئی آدمی پاگل ہو جائے کہ میں خلیفہ بن رہا ہوں عمر بھر کے لیے بیٹھوں گا نہ جوڈیشری کو جوڈیشل ایکٹیوزم کے لیے چھوڑونگا اور نہ افواج کو ۔ جنرل ایوب کے 10سال کی وجہ سے کتنے جنرل اپنے عہدوں سے ریٹائرڈ ہوگئے ۔
اس کے بعد دوسری مارشلاء پھرتیسری اور چوتھی مارشلاء کا تسلسل۔ غیر آئینی حکومت آئی ہے اور آئین کی دفاع میںہمیں اُن ججز جنہوں نے استعفیٰ دیا ہے اپنے بچوں کے پیٹ پر لاتھ مار کر نوکریاں چھوڑی ۔
PCOکے تحت حلف نہیں لیا ان کو جمہوریت کے ہیروز ڈکلیئر کرنا ہوگا ۔ ان کے بچوں کو مراعات دینی ہونگی اور جو سیاسی کارکن شہید ہوئے ہیں انہیں جمہوریت کے ہیروز ڈکلیئر کریں۔ یہاں دفعہ 144کی خلاف ورزی میں تو ہزاروں کارکنوں کو کوڑے لگے ، پھانسیاں لگیں ، سینکڑوں شہید ہوگئے ۔
لیکن جنہوں نے آئین سے غداری کی انہیں کسی نے سزا نہیں دی ۔ ہم کہاں پہنچ چکے ہیں۔
افغانستان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اس کا نتیجہ ابھی تک نہیں نکلا ہے اورہم درمیان میں سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم جنگ کا اعلان کرینگے ۔ عاصم منیر بھی جانتا ہے کہ اس کے حدود کیا ہے۔
ہمیں عوام کو یہ وعدہ دینا چاہیے کہ کسی بھی ادارے میں چاہے سول ، ملٹری یا جوڈیشری ہو کسی بھی آدمی کو ایکسٹینشن نہیں دینا چاہیے اور ترقی سنیارٹی پر دینی چاہیے ۔ مزید یہ ملک نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔انہوںنے کہا کہ گزشتہ دنوں جو کچھ پنجاب میں لبیک والوں کو گولیاں ماری گئیں کیا ضرورت تھی اس کی اورانسانوں پر یوں گولیاں چلائی گئی اور بچوں کومارا گیا ۔