|

وقتِ اشاعت :   October 30 – 2025

نئی دہلی: بھارت کو ایران میں واقع چاہ بہار بندرگاہ منصوب پر امریکی پابندیوں سے چھ ماہ کے لیے استثنیٰ مل گیا ہے۔

یہ بندرگاہ افغانستان کے لیے بھارت کا ایک اہم تجارتی دروازہ سمجھی جاتی ہے جو پاکستان کو بائی پاس کرتی ہے۔بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ امریکا نے حال ہی میں چھ ماہ کی چھوٹ دی ہے، جو اپریل 2026 تک برقرار رہے گی۔

یاد رہے کہ بھارت اور ایران نے گزشتہ سال چاہ بہار کی ترقی اور آپریشن کے لیے دس سالہ معاہدہ کیا تھا۔

تاہم واشنگٹن نے ایران کے جوہری پروگرام کے باعث ستمبر میں اس منصوبے پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

امریکی قانون کے تحت، اس منصوبے میں شامل کمپنیوں کو اپنے اثاثے منجمد ہونے اور امریکی لین دین روکنے کے خطرے کا سامنا تھا۔

امریکا نے ماضی میں بھی افغانستان میں اپنی موجودگی کے دوران بھارت کے چاہ بہار منصوبے کو مشروط منظوری دی تھی تاکہ کابل حکومت کو متبادل تجارتی راستہ فراہم کیا جا سکے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد امن مذاکرات جاری ہیں، جبکہ بھارت نے حال ہی میں طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر کیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس استثنیٰ کے ذریعے بھارت خطے میں اپنی تجارتی اور سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکا اور بھارت کے تجارتی تعلقات بھی نئے تناؤ کا شکار ہیں۔