حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہوگی ۔
ملک میں پہلے سے عام شہری مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں ،مالی مشکلات کے باعث اپنی ضروریات تک پوری کرنے سے قاصر ہیں۔
وزارت خزانہ کی جانب سے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ۔پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 43 پیسے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 265 روپے 45 پیسے مقرر کی گئی ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 2 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے اور اب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 278 روپے 44 پیسے ہوگئی ہے۔ مٹی کا تیل 3 روپے 34 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا ہے اور اب اس کی نئی قیمت 185روپے 5 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
او گرا کے نوٹی فکیشن کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت 5 روپے 88 پیسے کم کر دی گئی ہے۔
کمی کے بعد فی کلو ایل این جی کی نئی قیمت 201 روپے 60 پیسے ہوگئی ہے۔
دوسری جانب ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک بار پھر مہنگائی کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی مجموعی شرح میں 0.12 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر یہ شرح 5.05 فیصد تک جا پہنچی ہے۔
پچھلے ہفتے کے دوران 14 ضروری اشیائے خوردونوش مہنگی ہوئیں جبکہ 10 اشیاء کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ اضافہ پیاز، انڈے اور چکن کی قیمتوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ پیاز کی قیمت میں 59.54 فیصد،انڈوں کی قیمت میں 3.24 فیصد اضافہ،چکن 2.4 فیصد مہنگا جبکہ لہسن 1.7 فیصد بڑھ گیا۔
یہ مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عام شہریوں پر مہنگائی کی شرح میں اضافہ براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔
ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ کی بنیادی وجوہات میں توانائی کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ، روپے کی قدر میں کمی، درآمدی اشیاء پر انحصار، اور موسمی تبدیلیاں شامل ہیں۔
سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ زیادہ تر فصلوں کی کم پیداوار اور ٹرانسپورٹ لاگت کے بڑھنے سے ہوا۔
مہنگائی کی شرح میں اضافہ کا سب سے زیادہ اثر تنخواہ دار طبقے پر پڑرہا ہے۔
شہریوں کو روزمرہ کی اشیاء آٹا، گھی، چاول، سبزیاں، چکن، اور انڈے خریدنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متوسط طبقہ اپنے گھریلو بجٹ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی ضروریات میں کمی کررہاہے۔
حکومت کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج مہنگائی کی شرح میں اضافہ کو قابو میں لانا ہے۔
حکومت کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لانے کی ضرورت ہے، عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ شہریوں کے مسائل مزیدنہ بڑھیں۔