کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ نے پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشیٹو بلوچستان (PPHI-B) کے تحت ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجرز، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن (M&E) آفیسرز اور فنانس آفیسرز کی تقرریوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پورے بھرتی عمل کو کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے حکومت بلوچستان کو سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ تمام محکمے اور ادارے بھرتیوں کے اشتہارات بڑے اخبارات میں شائع کریں تاکہ شفافیت، مساوی مواقع اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ فیصلہ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل عدالتِ عالیہ بلوچستان کے دو رکنی بینچ نے حمیداللہ خان کی دائر کردہ آئینی درخواست پر سنایا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ PPHI-B نے چمن، سوراب اور اوستہ محمد میں نئی ضلعی سپورٹ یونٹس کے لیے بھرتیاں تحریری امتحان کے بغیر محض انٹرویوز کی بنیاد پر کیں،
جو آئین، قواعد اور میرٹ کے منافی ہیں۔عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ ’’بھرتی کا پورا عمل غیر قانونی، کالعدم اور شفافیت سے عاری ہے۔‘‘ فیصلے میں کہا گیا کہ تحریری امتحان کے بغیر کی گئی تقرریاں PPHI-B کے مینول آف آپریشنز کی شق 9.3.3 کی خلاف ورزی ہیں، جس میں تحریری ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ صرف ویب سائٹ پر اشتہار دینا مساوی مواقع کے اصولوں کے برعکس ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ آسامیوں کی تشہیر صرف تنظیم کی ویب سائٹ تک محدود رکھی گئی، جس کے باعث بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے امیدوار محروم رہ گئے۔
یہ عمل آئین کے آرٹیکل 18 اور 25 کی صریح خلاف ورزی قرار پایا۔
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اشتہار میں ضلعی بنیاد پر بھرتیوں کا وعدہ کیا گیا تھا مگر تقرریاں صوبائی بنیاد پر کی گئیں، جو میرٹ اور شفافیت کے اصولوں سے متصادم ہے۔
عدالت نے PPHI-B کے قواعد کی بعض دفعات کو بھی آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے مینوئل آف آپریشنز کی شق 9.3.2/1&2 کو کالعدم کر دیا، جو اشتہارات کو صرف ویب سائٹ تک محدود کرتی تھی۔
مزید برآں، عدالت نے PPHI-B کو ہدایت کی کہ وہ بھرتی کا عمل نئے سرے سے شروع کرے، آسامیوں کی تشہیر بڑے اخبارات میں کرے، تحریری امتحان کو لازمی بنائے، اور تقرریاں ضلعی بنیاد پر کی جائیں۔ اگر کسی ضلع میں اہل امیدوار دستیاب نہ ہوں تو اوپن میرٹ کے تحت تقرری کی جائے۔
عدالت نے واضح کیا کہ یہ پورا عمل 60 دن کے اندر مکمل کیا جائے۔عدالت نے حکومت بلوچستان، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) اور محکمہ صحت کو بھی ہدایت کی کہ وہ ایک جامع پالیسی نوٹیفکیشن جاری کریں، جس کے تحت صوبے کے تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ بھرتیوں کے اشتہارات بڑے اخبارات میں شائع کریں اور بغیر تشہیر کے کوئی تقرری نہ کریں۔
عدالت نے حکم دیا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان ان احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں اور رجسٹرار ہائی کورٹ کو تعمیلی رپورٹ پیش کریں۔