کوئٹہ: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنمائوں سابق صوبائی وزیر عبدالرحیم زیاتوال، سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ اور دائود شاہ کاکڑ نے کہا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے پی ٹی آئی کو 7 نومبر کو جلسہ کی اجازت نہ دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوں گے جلسہ کرنا ہمارا آئینی اور جمہوری حق ہے اور جلسہ کریں گے عدالت عالیہ سے رجوع کرنے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی
جس کی وجہ سے لوگ اداروں سے بدگمان ہورہے ہیں جو حکمرانوں اور ارباب اختیار کیلئے لمحہ فکریہ ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو پشتونخوا میپ کے مرکزی سیکرٹریٹ کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر علامہ ولایت حسین جعفری ، ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، سردار زین العابدین خلجی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ ہمیں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے کی اجازت نہ دینے کی مذمت کرتا ہوں کئی ماہ ہوگئے ہیں کہ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا گیا ہے تا حال ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جارہاپی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا ہے سیاسی جماعتوں کو میدان سے نکالنے کی جستجو چل رہی ہے ہم نے آئین کے تحفظ، پارلیمنٹ کی بالادستی کا مشن اٹھایا ہے ہم کسی ادارے کیخلاف نہیں ہر ادارے کو آئینی اختیار کا پابند بنانا ہوگا
کل آرمی چیف ریٹائر ہوکر ملک سے بھاگ جائے گا، ہم یہیں رہیں گے ایس آئی ایف کے ذریعے صوبائی خودمختاری کو پامال کیا گیا ہے ملک کے سنجیدہ لوگوں نے اس صورتحال کا نوٹس نہ لیا توکل نقصانات کا ذمہ دار وہ ہوں گے ۔
اس موقع پر بی این پی مرکزی سیکرٹری اطلاعات سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے تحریک انصاف کو پریس کانفرنس اور جلسہ کرنے کی اجازت نہ دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت عمران خان مقبول ترین رہنما ہیںلوگوں کی آواز دبانے والے ملک کی خدمت نہیں کررہے ملک میں واقعی جمہوریت ہے تو جلسہ کرنے دیں
کیونکہ یہ سیاسی جماعتوں اور لوگوں کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔
پی ٹی آئی بلوچستان کے صدر دائود شاہ کاکڑنے کہا کہ ہماری جماعت کا 7نومبر کو مرکزی جلسہ ہونا ہے جس میں تمام مرکزی قائدین نے شرکت کرنا تھی جلسے کی انعقاد کیلئے گزشتہ ماہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو جلسے کی درخواست دی لیکن ڈی سی نے ہمیں مختلف حیلے بہانوں سے لٹکائے رکھا جس کے بعد ہم نے جلسے کی اجازت کیلئے عدالت سے رجوع کیاجب بھی ہمارا جلسہ ہوتا امن و امان کا مسئلہ اور دفعہ 144 نافذ کردی جاتی ہے آج پھر ہم نے عدالت میں حکومت سے یہی کہا ہے کہ ہمیں اپنے اداروں پر اعتبار ہے وہ امن و امان قائم کرنے کے اہل ہیں
اللہ نے چاہا تو ہم جلسہ کرکے رہیں گے جلسہ جلوس کا آئین پاکستان ہمیں اجازت دیتا ہے، بدقسمتی سے طاقتور لوگوں کو یہ اچھا نہیں لگ رہا،پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) ماضی میں دعویدار تھے اب جمہوریت دشمن بنے ہوئے ہیںحکومت پھر مان جائے کہ وہ امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہیںجس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کو جلسہ جلوس کرنے کی اجازت نہیںدے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے حکمران عوام کو ان کے حقوق دینے میں مکمل طور پر ناکام ہے اور اپنی زور زبردستی کی حکومت قائم کرنے کیلئے اداروں اور عدالت کے زور پر ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔