بلوچستان کے بیشتر اضلاع بنیادی ضروریات کی کمی سمیت دیگر مسائل سے دوچار ہیں ۔
صحت، تعلیم، پانی، سیوریج، پختہ شاہراہیں، مواصلات، انفراسٹرکچر پر ہنگامی بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے تاکہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں کے لوگوں کی مشکلات میں کمی آسکے۔
موجودہ حکومت کی جانب سے تمام اضلاع کو یکساں ترقی دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے فنڈز کی فراہمی، وسائل کے صحیح استعمال سے مسائل پر قابو پانے کے ساتھ ترقی کا عمل تیز ہوگا جس کا فائدہ عوام کو پہنچے گا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی تمام پالیسیوں میں وسائل کے مؤثر اور منصفانہ استعمال کو یقینی بنا رہی ہے، تاکہ صوبے کے دور دراز علاقوں کے عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ترقیاتی فنڈز کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے نہ صرف مؤثر ہوں گے بلکہ دیرپا بھی ثابت ہوں گے ۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گزشتہ روز سنجاوی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سنجاوی جیسے خوبصورت مگر دور افتادہ علاقے کے عوام ہر طرح کی بنیادی سہولیات کے مستحق ہیں اور حکومت بلوچستان کی یہ اولین ترجیح ہے کہ یہاں کے لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ صوبائی حکومت صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے انہوں نے اعلان کیا کہ تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال سنجاوی کو توسیع دے کر 20 بستروں پر مشتمل مکمل فعال اسپتال میں تبدیل کیا جائے گا، اور اسے نجی شعبے کے اشتراک سے مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے گا تاکہ عوام کو معیاری طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں ۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سنجاوی کے بوائز اور گرلز کالجز کے طلبا و طالبات کے لیے دو نئی بسوں کی فراہمی کا بھی اعلان کیا تاکہ طلبہ اور عملے کو آمدورفت میں سہولت حاصل ہو،۔
اسی طرح انہوں نے ایڈمنسٹریشن کمپلیکس کی تعمیر کا بھی اعلان کیا ۔وزیر اعلیٰ نے تعلیم کے فروغ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سنجاوی اور زیارت کے علاقے میں 14 غیر فعال اسکولوں کو مکمل طور پر فعال کیا جا رہا ہے اور یہ اسکول موسمِ سرما کی تعطیلات کے بعد کھلنے پر فعال حالت میں ہوں گے ۔
انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی کمی فوری طور پر پوری کی جا رہی ہے جبکہ اساتذہ کی بھرتی اور تعیناتی خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے تاکہ تعلیم کے معیار میں بہتری لائی جا سکے ۔
علاقے میں امن و امان کو مزید بہتر بنانے کے لیے وزیر اعلیٰ نے چار نئے پولیس اسٹیشنز کے قیام کا اعلان کیا ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے صوبے میں “بی ایریاز کو اے ایریاز” میں تبدیل کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ بظاہر غیر مقبول ضرور ہے مگر وقت کی ضرورت اور امن و استحکام کی ضمانت ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عوام کے دیرینہ مطالبے پر سنجاوی کے لینڈ سیٹلمنٹ کے مسئلے کے جلد حل اور سنجاوی بائی پاس روڈ کی تعمیر کا اعلان بھی کیا، انہوں نے کہا کہ عوامی مطالبے کے مطابق سنجاوی کو ضلع کا درجہ دینے کا معاملہ بھی زیرِ غور ہے، اور جب نئے ڈویژن اور اضلاع کے قیام کا فیصلہ کیا جائے گا تو سنجاوی کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا ۔
وزیر اعلیٰ نے قائداعظم کیڈٹ کالج سنجاوی کے لیے نئے بلاکس کی تعمیر اور چار نئی بسوں کی فراہمی کا بھی اعلان کیا تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی اور سفری سہولتیں میسر آسکیں۔
بہرحال وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اتحادیوں کے ساتھ ملکر مختلف اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لا رہے ہیں خاص کر صحت کے مراکز کا قیام ،اسکولوں کے معیار کو بہتر بنانے اور بند اسکولوں کو فعال کرنا جیسے اقدامات قابل ستائش ہیں جس سے غریب عوام مستفید ہونگے۔
بلوچستان کے بجٹ کے صحیح اور منصفانہ استعمال سے چیلنجز سے نمٹا جاسکتا ہے، محرومی اور پسماندگی کے خاتمے میں مدد ملے گی ،عوام کا اعتماد حکومت پر بحال ہوگا۔ بلوچستان میں ترقی و خوشحالی کا دیرینہ خواب پورا کرنے کیلئے سنجیدگی اور توجہ کی ضرورت ہے جس کے ذریعے بڑے سے بڑے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
امید ہے کہ بلوچستان کی مخلوط حکومت مشترکہ کاوشوں سے بلوچستان کی ترقی کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔
بلوچستان کے تمام اضلاع میں یکساں ترقی کیلئے وسائل کا منصفانہ استعمال اور میرٹ ترجیح ہونی چاہئے!
![]()
وقتِ اشاعت : November 4 – 2025