کوئٹہ ؛ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی کوئٹہ شہر اور گرد و نواح میں گیس پریشر میں کمی اور بعض علاقوں میں گیس کی مکمل بندش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کوئٹہ کے شہریوں پر قہر الہی کی طرح مسلط گیس کمپنی کے اہلکاروں کی کارکردگی کو عوام دشمن اور مکمل انسانیت دشمن طرز عمل قرار دیا بیان میں کہا گیا کہ جی ایم سمیت کئی آفیسران مستقل طور پر کوئٹہ میں نہیں رہتے
جبکہ کوئٹہ میں چند روز رہنے کے دوران انہیں تمام سہولیات حاصل رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ انہیں کوئٹہ اور صوبے کے سرد علاقوں کے رہائشیوں کے مشکلات اور مسائل کے بارے میں کچھ معلومات حاصل نہیں جسکی وجہ سے گیس پریشر کی کمی یا گیس کی بندش کو یہ لوگ سنجیدہ مسائل سمجھتے ہی نہیں۰
بیان میں کہا گیا کہ کوئٹہ اور صوبے کے سرد اضلاع کے صارفین کیلئے گیس صرف چولہا جلانے کا ذریعہ نہیں بلکہ گیس انکے لئے ایندھن کا کام دیتی ہے اور اس ایندھن سے بچے، بوڑھے، بیماروں، خواتین، معذوروں کی زندگیاں وابستہ ہوتی ہے۰ مگر ان مسائل کو وہی بہتر سمجھ سکتے ہیں جنکے اپنے بچے سخت سردی کے ایام میں کوئٹہ یا صوبے کے سرد اضلاع میں قیام پذیر ہو اور سخت سردی کے اثرات سے متاثر ہوجاتے ہو۔
بیان میں کہا گیا کہ علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاون میں سالوں سے گیس پریشر کی شکایات موجود ہے جسکی طرف کبھی سنجیدگی کے ساتھ توجہ نہیں دی گئی ہے اور یہ مسائل ہر روز سنگین سے سنگین تر ہوتی جارہی ہے جسکے بابت پارٹی اور علاقہ عوام اور کوئٹہ کے شہریوں نے متعدد بار احتجاج مظاہرے کئیے یادداشتیں جمع کرائی گئی
گذشتہ اسمبلی کے مدت کے دوران پارٹی کے اراکین اسمبلی نے اسمبلی فلور اور گیس دفتر کے سامنے احتجاج اور مظاہرے کئے مگر ‘‘زمین جنبد نہ جنبد گل محمد’’ کے مصداق گیس کمپنی پر کوئی اثر ہی نہیں ہوا
بیان میں کہا گیا کہ اس وقت اسمبلیوں میں جعلی لوگ بیھیٹے ہوئے ہیں جن سے نہ ہمیں کوئی امید ہے اور نہ ہی عوام کو ان سے کسی اچھے کام کی توقع ہے اسمبلیوں سے عوامی مفاد میں آواز بلند ہوہی نہیں سکتی کو کچھ کرنا ہے حقیقی سیاسی و جمہوری جماعتوں اور عوام کو خود کرنا ہے۰
اگر گیس کمپنی نے رویہ درست نہیں کیا تو پھر سیاسی جماعتیں ہونگی اور عوامی احتجاج ہوگا۰ بیان میں فوری طور پر گیس کی بندش ختم کرنے اور پریشر میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا۔