کوئٹہ : سینئر سیاستدان و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان لشکری خان رئیسانی نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین و تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی، پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کو مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے حوالے سے خطوط ارسال کردیئے،
منگل کے روز مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے حوالے سے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کی جانب سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین و تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی، پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال کو لکھے گئے خطوط قاری اختر شاہ کھرل،حاجی میر محمد اسحاق لہڑی، حاجی وقار خلجی پر مشتمل وفد پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جبار اتمانخیل، صوبائی آفس سیکرٹری ملک عمر کاکڑ، صوبائی رابطہ سیکرٹری گل خلجی اور صوبائی پارلیمانی سیکرٹری حضرت عمر ایڈووکیٹ کے سپرد کئے
جبکہ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کی جانب سے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کو لکھے گئے خطوط قاری اختر شاہ کھرل،حاجی میر محمد اسحاق لہڑی، حاجی رحیم ترین، حاجی وقار خلجی، غازی خان بنگلزئی پر مشتمل وفد نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کے سپرد کئے۔
واضح رہے اس سے قبل نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلی بلوچستان و صوبائی اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر وسابق وزیراعلی سردار اختر جان مینگل، بی این پی کے سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈوویٹ، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، صوبائی اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی کو بھی خطوط ارسال کئے ہیں، جن میں انہوں نے بلوچستان اسمبلی سے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر ہونے والی نئی قانون سازی میں بلوچستان کے مفادات کا تحفظ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔