|

وقتِ اشاعت :   November 6 – 2025

حکومت نے بڑھتے ہوئے قرضوں کے پیش نظر نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ محدود کرنے تجویز دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ نے مالیاتی گنجائش کا ایک بڑا حصہ نگل لیا ہے اور حکومت این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے کو محدود کرنے کی تجویز دے رہی ہے۔

ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ ساتھ ماہرینِ معیشت نے ایس ڈی پی آئی (SDPI) کی سالانہ کانفرنس کے دوران اس بحث کو جنم دیا۔

این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ محدود کرنا چھوٹے صوبوں کیلئے مالی مشکلات کا سبب بنے گا خاص کر بلوچستان اس سے زیادہ متاثر ہوگا، بلوچستان کا بجٹ میں حصہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہت کم ہے جبکہ بلوچستان سب سے زیادہ پسماندہ ہے جہاں وہ تمام سہولیات میسر نہیں جو دیگر صوبوں کو حاصل ہیں جس کی بڑی وجہ فنڈز اور بجٹ میں ان کے لیے مختص ایک خطیر رقم ہے۔

حالانکہ بلوچستان میں سب سے زیادہ وسائل ہیں اور میگا منصوبے چل رہے ہیں جس سے وفاق کو زیادہ منافع مل رہا ہیجبکہ بلوچستان کوانتہائی کم حصہ جو نہ ہونے کے برابر ہے دیا جارہا ہے جس کی واضح مثال سیندک ہے جہاں بلوچستان کا حصہ محض دو فیصد رکھا گیا ہے

جبکہ وفاق 48اور چین 50فیصد حصہ لے جارہا ہے ۔

بلوچستان کا ہمیشہ یہی شکوہ رہا ہے کہ ان کے وسائل اور میگا منصوبوں پراس کی حق تلفی کی جارہی ہے ۔

اگر این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی رقم مزید کم کی جائے گی تو بلوچستان میں ترقی کی رفتار سست ہوگی ویسے بھی بلوچستان میں نہ تو موٹر وے تعمیر کیا گیا ہے نہ ہی کراچی کوئٹہ سمیت دیگر اہم شاہراہوں کو دو رویہ کیا گیا ہے، میگا ٹرانسپورٹ، ریلوے منصوبے بھی بلوچستان کے حصے میں نہیں آئے اور نہ ہی صحت اور تعلیم کے بڑے مراکز دیئے گئے ہیں ۔

وفاق کو بلوچستان پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے خاص کر مالی حوالے سے ہر ممکن تعاون کرنا چاہئے ،فنڈز، بجٹ اور این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی کی بجائے اضافہ کرنا چاہئے تاکہ بلوچستان حکومت مفاد عامہ کے منصوبے شروع کرسکے ، صنعتیں لگاسکے، زراعت کے شعبے میں بہتری لاسکے ،سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی آمدن بڑھاسکے ،روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرسکے۔

بلوچستان ملک کا نصف حصہ ہے جبکہ آبادی کم ہے مگر اس کے باوجود آج بھی بلوچستان ترقی کے لحاظ سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں پیچھے ہے ۔وقت کی ضرورت ہے کہ بلوچستان کو ترجیح دی جائے ،محرومیوں اور پسماندگی کے خاتمے کیلئے وفاقی حکومت بلوچستان کو اہمیت دے۔