|

وقتِ اشاعت :   November 9 – 2025

کوئٹہ :  جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما اور سینیٹر مولانا حافظ حمداللہ نے ستائیسویں آئینی ترمیم پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل کہا جاتا تھا کہ سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کی تشکیل عدلیہ کے مفاد میں ہے، آج کہا جارہا ہے کہ آئینی عدالت مفاد میں ہے، کیا یہ آئین سے مذاق نہیں؟

اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ آئینی فیصلے مفاداتی بن چکے ہیں کہیں ادارہ جاتی مفاد، کہیں شخصی مفاد۔ سیاستدانوں نے آئین کو کھیل تماشہ اور بازیچہ اطفال بنا دیا ہے۔ ایسے میں وہ سیاستدان 1973 کے آئین کا کریڈٹ لینے کے اہل نہیں

جو روز اسے قربانی کا بکرا بناتے ہیں۔مولانا حافظ حمداللہ نے کہا کہ سیاستدان اقتدار کے حصول کے لیے آئین، جمہوریت اور پارلیمنٹ سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں،

افسوس کہ انہی کے ہاتھوں پارلیمنٹ ایک ربڑ اسٹیمپ بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ قوم کا اعتماد موجودہ نظام اور قیادت سے ختم ہو چکا ہے۔ وزیراعظم کا آذربائیجان سے ویڈیولنک پر کابینہ اجلاس کی صدارت اور ترمیم کی منظوری میں غیر معمولی جلد بازی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں صرف جھنڈے کی حکومت نہیں بلکہ جھنڈے میں ڈنڈابھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں ڈنڈے کے بغیر نہ جھنڈا نظر آتا ہے اور نہ کوئی کردار ادا کرسکتا ہے۔