|

وقتِ اشاعت :   November 9 – 2025

کوئٹہ : سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ وسائل کی لوٹ مار کے دفاع اور سہولت کاری کیلئے بلوچستان کی عزت،ننگ و ناموس کی روایتی محافظ فورس کو نوآبادیاتی پالیسی کے تحت ختم کیا گیا،لیویز فورس کے خاتمہ میں سیاسی پارٹیاں بری الزمہ نہیں اس سرزمین کے لوگوں اور تاریخ کو جوابدہ ہیں،

یہ بات انہوں نے رسالدار میجر ظریف خان کاکڑ کی قیادت میں شیرانی و حریفال قبائل کے نمائندہ وفد سے سراوان ہاس میں ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی،

نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ لیویز فورس کا تعلق بلوچستان کے قبائل اور مقامی آبادیوں سے جو اپنے وطن اس کی عزت، ننگ وناموس کے روایتی محافظ ہیں جن کی بنیادی ذمہ داری مقامی سطح پر امن وامان کو برقرار رکھنا ہے تاہم بلوچستا ن کی اس مقامی فورس کو نوآبادیاتی پالیسی کے تحت ختم کیا گیاہے، انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جعلی انتخابات اس لئے کرائے گئے

تاکہ یہاں وسائل کی لوٹ مار ہواور اس لوٹ مار کیلئے صوبائی اسمبلی سے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 پاس کرایا گیااب لیویز فورس کو ختم کرکے باہر کی فورس کو یہاں لایا جارہاہے تاکہ وہ مقامی لوگوں کی بجائے بین الاقوامی کمپنیوں، سرمایہ داروں اور وسائل لوٹ کر لے جانے والوں کی سہولت کار بن کر ان کا دفاع کرے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی پارٹیاں چاہے وہ اپوزیشن میں ہیں یا حکومت میں لیویز فورس کو ختم کرنے کے اس عمل سے بری الزمہ نہیں بلکہ جوابدہ ہیں کہ انہوں نے کیوں لیویز فورس کو ختم کرنے کی قانون سازی روکنے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا۔