|

وقتِ اشاعت :   November 9 – 2025

کوئٹہ: سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی اسمبلی سے دوبارہ منظوری میں ایوان اور ایوان سے باہر کی اپوزیشن جماعتوں کی خاموشی باعث تشویش ہے ،

صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہوں کو قانون سازی کے حوالے سے خطوط ارسال کیے ہیں ، وزیراعلیٰ کے ایگزیکٹو آرڈر کے زریعے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عمل درآمد روکنے کی کاپی تاحال نہیں ملی ،

کاپی کے حصول کیلئے عدالت سے رجوع کیاہے،اگر آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے اسمبلی اور اسمبلی سے باہرکی جماعتوں اور سیاسی قیادت نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو ا?نے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی ،یہ بات انہوں نے اتوار کو سراوان ہاوس میں سنیئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل سے نواز رکھا ہے ،1954ء￿ میں بلوچستان کے علاقے سوئی سے نکلنے والی سوئی گیس نے پاکستان کو ایشیئن ٹائیگر بنایا مگر بلوچستان کے عوام اس سہولت سے محروم رہے ،صوبے کے معدنی وسائل سے بلوچستان کے لوگوں کی حالت زار بدلنے کی بجائے حکمرانوں نے ہمارئے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے 80 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں حالانکہ اس سرزمین کے باسیوں کو قدرت نے بیش بہا قیمتی قدرتی معدنیات اور وسائل سے نواز رکھا ہے ،لیکن ہماری آنے والی نسلوں کے وسائل کو بے دریغ طریقے سے لوٹنے کے لئے نت نئے طریقوں سے قانون سازی کرکے قانونی جواز پیدا کیا جارہا ہے

لیکن ہم سیاسی کارکنوں اور سیاسی پارٹیوں کے توسط سے اپنے لوگوں میں شعور بیدار کرکے اپنے وسائل کا بے دیغ لوٹ مار کا راستہ روکنے کے لئے عملی جدوجہد کررہے ہیں اس مقصد کے لئے عوام اور سیاسی کارکنوں میں ا?گاہی پیدا کرنا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے مختلف فورمز پر مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف لوگوں کو بیدار کیا اور عدالت عالیہ سے بھی رجوع کیا جس پر حکومت قانون کا ازسر نو جائزہ لینے پر مجبور ہوئی اور بلوچستان اسمبلی میں مشترکہ قرارداد کے ذریعے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا

اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صحافیوں سے بات چیت میں ایگزیکٹو آرڈر کے تحت مذکورہ قانون پر ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت عمل درآمد روکنے اورتمام جماعتوں کی رضا مندی سے ازسرنو ایکٹ کا جائزہ لیکر خامیوں کو دور کرکے دوبارہ اسمبلی سے منظور کرانے کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال اس ایگزیکٹو آرڈر کی کاپی کسی بھی سیاسی جماعت کو فراہم نہیں کی گئی مذکورہ ایگزیکٹو ا?رڈر کی کاپی کے حصول کیلئے ہم نے عدالت سے رجوع کیاہے۔

انہوں نے کہا کہ ایکٹ کے حوالے سے ایوان اور ایوان سے باہر کی جماعتوں خاص طور پر اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب سے پراسرار خاموشی باعث تشویش ہے جس کی وجہ سے صوبے کے عوام اور سیاسی کارکنوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہوں کو قانون سازی کے حوالے سے خطوط ارسال کیے ہیں اب ان تمام سیاسی جماعتوں کے اکابرین اور پارلیمان میں موجود جماعتوں کے نمائندوں و اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داری ہے کہ وہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو صوبے اور یہاں عوام سمیت آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی منظوری میں کردار ادا کرتے ہوئے معدنی وسائل کا دفاع کرتے ہوئے قانون سازی کریں۔ ا

یک سوال پر انہوں نے کہا کہ سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی حقوق کا حصول اور تحفظ ممکن ہے ، منتخب عوامی نمائندوں کو عوام کے حقوق کے حصول اور صوبے کے معدنی وسائل کے دفاع کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا نہ کہ صرف پی ایس ڈی پی کو ترجیح دیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے ایگزیکٹو ا?رڈر کے زریعے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عمل درآمد روکنے کے اعلان کے بعد سے سیاسی جماعتوں کی پراسرار خاموشی عوام کے لئے باعث تشویش ہے

سندھ اور پنجاب کی حکومتیں اپنے اپنے صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے آواز بلند کرتی ہیں جس کی حالیہ مثال دریا کے پانی کی تقسیم اور این ایف سی ایوارڈ پر دونوں صوبوں کا موقف ہے لیکن بلوچستان میں ایسا کچھ نظر نہیں ا?تا۔ اگر ا?نے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے اسمبلی اور اسمبلی سے باہرکی جماعتوں اور سیاسی قیادت نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی ہمارا کام عوام اور سیاسی کارکنوں میں شعور و آگاہی بیدار کرنا ہے۔