کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیات، اور جنگلات و جنگلی حیات کا اجلاس پرنس احمد عمر احمدزئی کی زیر صدارت جمعرات کواسمبلی سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، وزیراعلیٰ کے مشیر نسیم الرحمن ملاخیل، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری محکمہ موسمیاتی تبدیلی علی اکبر بلوچ، سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات عبدالفتح بھنگر، اسپیشل سیکرٹری اسمبلی عبدالرحمن، شریف سمالانی ناظم اعلیٰ جنگلی حیات و دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات کے حکام نے کمیٹی کو اپنے فرائض، کارکردگی اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ نے بلوچستان کلائمٹ چینج پالیسی 2024ء مرتب کر کے نافذ کر دی ہے، جبکہ بلوچستان کلائمٹ چینج فنڈ کے قیام کے لیے 500 ملین روپے کی ابتدائی رقم مختص کی گئی ہے۔بلوچستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPA) کی کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ 45 اینٹوں کے بھٹوں کو جدید زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا ہے، 28 کرومائیٹ گرائنڈنگ ملز کو آبادی سے باہر منتقل کیا گیا ہے،
جبکہ صنعتی اداروں میں 29 Effluent Treatment Plants (ETPs) اور 18 Scrubbers نصب کیے گئے ہیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔ مزید بتایا گیا کہ 11000 سے 12000 کلوگرام غیرقانونی پلاسٹک بیگز ماہانہ ضبط کیے جاتے ہیں، اسپتالوں کا نقصان دہ فضلہ جدید طریقوں سے تلف کیا جا رہا ہے، اور ماحولیاتی عدالت میں 146 مقدمات زیر سماعت ہیں۔ممبران کمیٹی نے اس موقع پر کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک سنگین چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی، مؤثر نگرانی اور عوامی آگاہی ناگزیر ہے۔
اجلاس کے دوسرے مرحلے میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے حکام نے اپنی کارکردگی، کامیابیوں اور درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ محکمہ نے فارسٹ ایکٹ 2022ء کے تحت آٹھ قواعد و ضوابط اور تین نئے محفوظ جنگلاتی و سمندری علاقے Churna Island, Miami Hor And Takatu National Park نوٹیفائی کیے ہیں۔
محکمہ نے بتایا کہ صوبے بھر میں 53 جنگلاتی نرسریاں قائم کی گئی ہیں جن میں 3.8 ملین پودے تیار کیے گئے ہیں، جبکہ عوام، اداروں، مسلح افواج اور این جی اوز کو 1.8 ملین پودے مفت تقسیم کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، 41 ہزار ایکڑ سے زائد زمین پر شجرکاری اور سبزہ بڑھانے کے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں، جبکہ Astola Island کے لیے منیجمنٹ پلان اور وائلڈ لائف اینڈومنٹ فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔
محکمے کے مطابق بجٹ کی محدود دستیابی، عملے کی کمی اور جنگلات کی نامکمل قانونی منتقلی ان کی کارکردگی میں رکاوٹ ہیں۔ تاہم، آئندہ سال کے لیے ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ جنگلات کے تحفظ، زمینوں کی قانونی منتقلی، اور ماحولیاتی توازن کے فروغ کے لیے مزید جامع اقدامات کیے جائیں گے۔کمیٹی نے دونوں محکموں کی کارکردگی کو سراہا اور ہدایت کی کہ صوبے میں ماحول کے تحفظ، شجرکاری کے فروغ، اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات مزید تیز کیے جائیں۔