اسلام آباد : قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن کی نعرے بازی، ڈپٹی اسپیکر نے اپوزیشن کو نکتہ اعتراض کی اجازت دینے سے انکار کیا جس پر ایوان میں شور مزید بڑھ گیا۔
اجلاس میں میں بلوچستان کی جامعات اور طلبہ کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھائے گئے عالیہ کامران نے پوچھا کہ بلوچستان کی یونیورسٹیوں میں کتنے طلبہ کو ٹیکنیکل کورسز کرائے گئے؟
وزیر مملکت فرح ناز اکبر نے یقین دہانی کرائی کہ بلوچستان میں تعلیمی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
اس دوران بیرون ملک اسکالرشپ پر جانے والے طلبہ کے حوالے سے انجم عقیل خان، سحر کامران اور شازیہ مری نے سوالات اٹھائے:کتنے طلبہ اسکالرشپ پر بیرون ملک بھیجے گئے؟
کیا وہ پاکستان واپس آتے ہیں؟
اگر نہیں تو وجوہات کیا ہیں؟
واپسی پر ڈیڑھ لاکھ روپے کیا ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں؟
پی ایس ڈی پی فنڈز کے استعمال پر کون جوابدہ ہے؟
شازیہ مری نے کہا کہ اصل تشویش یہ ہے کہ زیادہ تر طلبہ واپس نہیں آتے،
جس پر حکومت کو جواب دینا ہوگا۔