|

وقتِ اشاعت :   November 15 – 2025

کوئٹہ:  بلوچ فار وائس مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ صوبے میں جبری گمشدگیوں کے خلاف ہمارے احتجاجی کیمپ کو قائم ہوئے اور جاری جدوجہد کو 16 سال مکمل ہوچکے ہیںاور ہم آج بھی ریاست اور ریاستی اداروں کے سربراہوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ طاقت کے استعمال اور بلوچوں کی ماورائے قانون قتل اور جبری گمشدگیوں سے حالات بہتر نہیں ہوں گے

لہذا صوبے کے حالات کی بہتری کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طاقت سے استعمال سے گریز کرتے ہوئے بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کیا جائے طاقت اس طرح کے غیر قانونی اقدامات اور گمشدگیوں کا سلسلہ ختم ہوسکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے تنظیم کی حوران بلوچ اور غنی بلوچ کے اہلخانہ کے ہمراہ ہفتہ کو عدالت روڈ پر قائم احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ نصر اللہ بلوچ نے کہا کہ ہماری تنظیم کے احتجاجی کیمپ کو پریس کلب کے سامنے قائم ہوئے 6 ہزار دن مکمل ہوچکے ہیں۔

کیمپ بلوچستان کے مختلف علاقوں سمیت کراچی اور اسلام میں بھی لگایا گیا اس کیمپ کو بلوچستان اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں پر امن مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے اور 16 سالہ جدوجہد کے دوران بلوچستان سمیت کراچی، اسلام آباد میں احتجاج، سیمینار، کوئٹہ سے اسلام آباد پیدل اور ٹرین مارچ کیا جاچکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جبری لاپتہ افراد کے کیسز قانونی طریقے سے عدلیہ، کمیشن، وفاقی، صوبائی حکومتوں کے پاس رجسٹرڈ کرانے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ شواہد کے ساتھ پیش کیا اس جدوجہد میں تکالیف اور مشکلات کا سامنا کیا۔

مجھ سمیت جنرل سیکرٹری حوران بلوچ ، وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ سمیت دیگر رہنمائوں پر بوگس انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے ،گرفتاری کے ساتھ تشدد کیا گیا لیکن ہم اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوئے انہوں نے کہاکہ اس جدوجہد میں ہمارے 2 ضلعی کوارڈینٹر کو ماورائے قانون قتل کیا گیا

ہماری جدوجہد آج بھی جاری ہے انہوں نے کہاکہ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین ہمیں رابطہ کرکے پرفارما پر کرکے ہمارے حوالے کرتے ہیں اور پھر ہم اس شخص کا کیس کمیشن اور صوبائی حکومت کو فراہم کرتے ہیں جس کے بعد کمیشن کیس پر ایک ہفتے میں قانونی کاروائی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو نوٹسز بھیجتا ہے اور ہماری تنظیم متاثرین کو قانونی تقاضوں کے حوالے سے آگاہی دیتے ہیں

انہوں نے کہا کہ طویل جدوجہد کے تجربات سے ریاست اور ریاستی اداروں کے سربراہوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ طاقت کے استعمال اور بلوچوں کے ماورائے قانون قتل، جبری گمشدگیوں سے حالات ٹھیک نہیں کرسکتے ان کارروائیوں میں آپ نے ہزاروں بلوچوں کو جبری لاپتہ اور ہزاروں کی تعداد میں ماورائے قانون قتل کیا جس کے بعد بھی حالات دن بدن خراب ہورہے ہیں اس لئے ہماری ریاست اور ریاستی اداروں کے سربراہوں سے التجا ہے کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان میں طاقت کے استعمال سے گریز کریں کیونکہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اسے سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

اور لوگوں کے ساتھ ملکی قوانین کے ساتھ برتائو کیا جائے جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے جن پر الزامات ہیں انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے ماورائے قانون گرفتاریوں اور قتل کا سلسلہ روکا جائے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کے حل کیلئے انسانی وقار اور آئینی حصولوں کے مطابق قانون سازی کی جائے۔ ہماری لاپتہ افراد کے لواحقین سے گزارش ہے کہ وہ خاموش نہ بیٹھیں اپنے پیاروں کی مکمل تفصیلات کے خود سامنے آئیں۔