|

وقتِ اشاعت :   November 15 – 2025

کوئٹہ : ملک میں جمہوریت کا راستہ روکا جارہا ہے ،پاکستان کے آئین میں آئے روز غیر جمہوری ترامیم ہورہے ہیں۔

ساری دنیا کو پتہ ہے یہ اسمبلیاں بوگس ہے یہاں عوامی نمائندے نہیں، ان کو کسی ترمیم کا حق حاصل نہیں۔

آج ایک مرتبہ پھر جمہوری قوتوں کیلئے آخری امید کی کرن پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی ہے۔

ہم نے عظیم جمہوری رہبر محترم محمود خان اچکزئی کا ساتھ دینا ہوگا۔ اس ملک میں کئی دہائیوں سے جمہوریت کے علمبردار رہے ہیں،پشتونخوا وطن کو تاریخ کے اذیت ناک صورتحال کا سامنا ہے ۔

وطن دشمن ارادوں کا مقابلہ قومی اتحاد سے ممکن ہے اور قومی اتحاد و اتفاق میں سب سے اہم کردار تعلیم یافتہ نوجوانوں کا ہوتا ہے۔ طلباء نے اپنے وطن اور قوم کے خاطر اپنی ذمہ داریوں کو مد نظر رکھنا ہوگا۔ طلباء ہی اس معاشرے کے مستقل ہوتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد آیاز خان جوگیزئی، مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی سیکرٹری برائے مالیات محمود اچکزئی، زونل ڈپٹی آرگنائزر شہباز خان پیر علی زئی، ضلعی ڈپٹی سیکرٹری سید صفدر آغا اور کالج کے سابق علاقائی سیکرٹری عیسیٰ خان اچکزئی نے ضلع کوئٹہ سے مربوط سائنس کالج علاقائی یونٹ کانفرنس اور نئے طلباء کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

پشتونخواسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سائنس کالج کوئٹہ علاقائی یونٹ حلف برداری پروگرام اور صوبے بھر سے نئے آئے ہوئے طلباء کے اعزاز میں ویلکم پارٹی کا انعقاد اعزازی طور پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد آیاز خان جوگیزئی کے زیر صدارت منعقد ہوا۔

سٹیج سیکرٹری کے فرائض زونل آرگنائزر امین خان نے سرانجام دی ۔کانفرنس میں علاقائی سیکرٹری منورکاکڑ، سینئر معاون سیکرٹری عبداللہ خلجی اور 21رکنی کابینہ تشکیل دی گئی۔

پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کوئٹہ کے ضلعی سینئر معاون واسع خان نے پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن گورنمنٹ سائنس کالج کے نو منتخب عہدیداران و کابینے سے تنظیم کے آئین و منشور سے وفاداری کا حلف لیا۔ ویلکم پارٹی میں کالج کے سینکڑوں طلباء سمیت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور پشتونخواسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی، صوبائی، ضلعی و علاقائی عہدیداران نے شرکت کی۔ مقررین نے پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سائنس کالج کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دی اور صوبے بھر سے نئے آنے والے طلباء کو خوش آمدید کہا اور تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرکے طلباء کو تعلیم کے اہمیت و افادیت سے آگاہ کیا۔

انہوں نے اکیسویں صدی میں بھی سیکنڈری لیول کے تعلیم کے تباہ کن حال پر تشویش کا اظہار کیا کہ آج تک صوبے بھر سے آئے ہوئے طلباء شہر میں کرائے کے کمروں میں رہ رہے ہیں اور کالج کا ہاسٹل بند پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سرزمین جو ہمارے آباؤ اجداد نے سروں کے قربانیوں سے ہم تک پہنچایا ہے

آج ہمارے معدنیات ہمارے اجازت کے بغیر لوٹے جارہے ہیں اور فیلڈ مارشل صاحب امریکی صدر کو بریف کیس میں پیش کرتے ہیں۔ ہم اپنے سرزمین میں پائے جانے والے قیمتی معدنیات کو ہمارے اجازت کے بغیر کسی ہو لوٹنے کی اجازت نہیں دینگے۔ دنیا جہاں کے توجہ کا مرکز ہمارے پہاڑوں کے معدنیات پر ہیں۔

اسے بہانے حالات ایک مرتبہ پھر ہمارے حق میں دیکھائی نہیں دے رہے۔ ایک مرتبہ پھر دنیا کے بڑے قوتوں کیلئے میدان جنگ پشتون افغان وطن کو بنانے کی کوشش کی جارہی ہیں۔

کوئلے کے مزدوروں کو ایک سازش کے تحت اغوا کرتے رہتے ہیں۔ جس سے ہمارے کوئلے و دیگر قدرتی معدنیات کے کان مہینوں تک بند رہتے ہیں۔ ایک طرف ہمیں روزگار کے مواقع نہیں اور دوسری طرف ہمارے لاکھوں مزدوروں پر کوئلے و دیگر قیمتی ذخائر نکال کر گھر پالنے کے مواقع و روزگار چھین رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب روس اور سویت یونین کو کولیپس کرنے کا وقت تھا تو امریکہ کی طرف سے ڈالر کاٹنوں میں آتے تھے جس سے اس وقت کے آرمی جرنیلوں نے فیکٹریاں بنائی آج بھی جنرل ضیاء الحق کے بیٹوں و دیگر کے کارخانے چل رہے ہیں۔ یہاں افغان مہاجرین کے نام پر دنیا جہاں سے پیسے لئے گئے۔

کرنل امام خود اقرار کر چکے ہیں کہ ہم نے 93 ہزار مجاہدین کو تربیت دی اور جنرل مشرف نے کہا کہ یہ جنگجو ہمارے اثاثے ہیں۔ آج جب مقصد نہیں رہا تو چالیس پچاس سال سے یہاں مقیم افغانوں کو بہت بے دری سے نکالا جا رہا ہے جو پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا المیہ رہا ہے کہ ہاورڈ یونیورسٹی کا شمار دنیا کے اولین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے کہ جب کنگ ہاورڈ کی بیگم زچگی کے وقت وفات پا گئی تو انہوں نے اس مسلے کے مستقل حل کے ریسرچ کیلئے ایک یونیورسٹی تعمیر کی جہاں سے ہزاروں ماہر ڈاکٹر، سائنسدان اور ہر شعبے کے ماہرین انسانیت کیلئے خدمات سر انجام دے چکے ہیں اور دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف ہندوستان میں شاہ جہان کی بیگم جب انتقال پائی تو اس نے یادگار کے طور پر تاج محل بنایا اور یہ ہمارا اصل المیہ ہے۔

سائنس کالج علاقائی یونٹ کے رہنمائوں نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے حکومت میں جب نواب آیاز خان جوگیزئی نے ویزیٹ کیا تو ان کے ان تھک محنت سے تب کالج کو کھنڈرات سے ایک اچھی عمارت میں تبدیل کیا۔

ہم پارٹی اور پشتونخوا ایس او کے مرکزی ، صوبائی ، ضلعی تمام اکابرین کے مشکور ہیں جنہوں نے سائنس کالج اور بالخصوص طلباء کے مسائل کے حل کے لیے ہر موقع پر ہمارا ساتھ دیا ۔

کالج میں طلباء کے مطالبات کو محکمہ تعلیم سے حل کرانے کی اپیل کرتے ہیں۔ آخر میں پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سائنس کالج کی طرف سے مہمان نوازی ہوئی اور نئے آئے ہوئے طلباء کے استقبال میں میوزک پروگرام ہوا اور پشتون روایتی اتنڑ پیش ہوئے۔