کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا کی بار بار بندش پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا
انہوں نے کہا کہ جدید دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں عوام کو اب بھی پتھر کے دور جیسے حالات کا سامنا ہے جہاں انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولت کو آئے روز بند کردیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موبائل ڈیٹا کی بندش سے طلبہ کی آن لائن تعلیم، اسائنمنٹس اور امتحانات بری طرح متاثر ہوتے ہیں
جبکہ آن لائن کاروبار کرنے والے نوجوان اور صحافی بھی شدید مشکلات سے دوچار رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ معلومات کی ترسیل میں بھی رکاوٹ بنتی ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں ناقابل قبول ہے۔میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے امن و امان کے نام پر بار بار بندشوں اور پابندیوں کا سہارا لینا ناکام پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موبائل ڈیٹا بند کرنے، راستے بند کرنے اور دیواریں اونچی کرنے سے کبھی امن قائم نہیں ہوا۔
یہ تمام تجربات کئی سالوں سے جاری ہیں لیکن حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑتے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی پالیسیوں اور ادارہ جاتی کوتاہیوں کا جائزہ لینا چاہیے، ناکامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سیکورٹی خدشات برقرار رہے
تو پھر کیا مستقبل میں عوام کے گھروں سے نکلنے پر بھی پابندی لگا دی جائے گی؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ٹیکنالوجی دشمن اقدامات سے باز آئے اور بلوچستان کے عوام کو دیگر صوبوں کی طرح بنیادی سہولیات میسر کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اب صرف سہولت نہیں بلکہ تعلیم، روزگار، کاروبار، اور صحافت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی بندش سے معاشرہ گھٹن اور بے خبری کا شکار ہو جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ انٹرنیٹ کی بلاجواز بندش کا سلسلہ فوری طور پر ختم کرے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جدید، پیشہ ورانہ اور شفاف حکمت عملی اپنائے۔