|

وقتِ اشاعت :   November 17 – 2025

کراچی: بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما و سینیٹر کہدہ بابر نے کہاہے کہ،بلوچستان کو مسلسل نظرانداز کرنا قومی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،

خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ آج تک کسی بھی حکومت نے گوادر پورٹ پر وہ توجہ نہیں دی جس کی یہ قومی اثاثہ حقدار تھا۔

اگر سنجیدگی سے کام کیا جاتا تو آج نہ صرف بلوچستان کے مقامی لوگوں کو فائدہ ہوتا بلکہ پورا پاکستان اقتصادی سرگرمیوں سے مستفید ہو رہا ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مالک کے دورِ حکومت میں سی پیک آیا، لیکن پانچ سے سات ارب ڈالر کے قرضوں اور بجلی کے منصوبوں کے باوجود بلوچستان میں ایک روپیہ بھی نہ لگایا گیا۔ سی پیک کے نام پر پورے پاکستان میں کمپنیاں لگیں، بجلی کے پلانٹس بنے،

مگر بلوچستان اپنی محرومیوں کے ساتھ وہیں کھڑا رہا۔سینئر نائب صدر بی اے پی سینیٹر کہدہ بابر نے کہا کہ بلوچستان کے پاس خوبصورت ساحل اور قدرتی مقامات موجود ہیں، جنہیں سیاحتی مراکز میں تبدیل کیا جائے تو خطہ معاشی طور پرمستحکم ہو سکتا ہے۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ کبھی بسیں بند ہوتی ہیں، کبھی روڈ بندبندہوتیہیں ایسے حالات میں ٹورازم کیسے ترقی کرے گا؟انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام بے وجہ ترقی نہ ہونے کی شکایت نہیں کرتے۔

اگر روڈ بن رہا ہو اور اسی روڈ پر کام کرنے والے مزدوروں کو شہید کر دیا جائے تو ترقی کیسے آئے گی؟ترقی مخالف عناصر دراصل بلوچستان کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سینیٹر کہدہ بابر نے واضح کیا کہ واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹس کے وعدے بھی پورے نہیں ہوئے۔

بلوچستان حکومت نے خود بھی پلانٹس لگانے کا دعویٰ کیا، مگر نتائج سامنے نہیں آئے۔

اس کے برعکس چین نے گوادر میں پلانٹس لگائے جن سے کم از کم پانچ سے چھ لاکھ گیلن پانی روزانہ مل رہا ہے، یہی واحد عملی پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے کو 2004 میں بلوچستان کے لیے 25 ارب روپے دینے کا وعدہ کیاجو دس سال میں ملنے تھے، لیکن 2017 تک اس رقم کا آدھا حصہ بھی بلوچستان کو نہیں ملا۔

سینیٹر کہدہ بابر نے مطالبہ کیا کہ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان کی نشستیں بڑھائی جائیں۔بلوچستان ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن قومی اسمبلی و سینیٹ میں نشستوں کی تعداد اس کے حجم، دور دراز علاقوں، آبادی کی تقسیم اور ضروریات کے مطابق نہیں۔ نشستیں بڑھانے سے بلوچستان کی حقیقی نمائندگی ممکن ہوگی۔